پاکستانی نژاد برطانوی شہری اور پی ٹی آئی برطانیہ کے ایکٹیوسٹ شایان علی کا نجی ٹی وی چینل دنیانیوز کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ لندن ہائی کورٹ میں اہم مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شایان علی نے دنیانیوز کے خلاف تقریباً ایک لاکھ پاؤنڈ ہرجانے، معافی اور دیگر قانونی ریلیف کے لیے دعویٰ دائر کر رکھا ہے، جبکہ کیس کی اہم سماعت آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔ رپورٹس کے مطابق مقدمہ ٹرائل کی طرف بڑھ رہا ہے، تاہم عدالت نے ابھی فریقین کے دعوؤں یا ذمہ داری کے تعین سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔یہ مقدمہ 2 اپریل 2022 کو نشر ہونے والی ایک رپورٹ سے متعلق ہے جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ شایان علی نے لندن میں ہائیڈ پارک کے قریب واقع پاکستان مسلم لیگ ن کے دفتر کے باہر سابق وزیراعظم نواز شریف پر حملے کی کوشش کی۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ شایان علی نے موبائل فون پھینکا جو ایک سکیورٹی گارڈ کو لگا اور وہ زخمی ہوگیا۔شایان علی نے ان الزامات کی مسلسل تردید کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے نواز شریف پر حملہ نہیں کیا، نہ ہی موبائل فون پھینکا، بلکہ وہ واقعے کے وقت پی ایم ایل این دفتر کے باہر ویڈیو ریکارڈ کر رہے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعے کے سلسلے میں شایان علی کو نہ گرفتار کیا گیا اور نہ ہی ان پر کوئی فردِ جرم عائد ہوئی۔اس معاملے پر شایان علی نے پہلے برطانیہ کے میڈیا ریگولیٹر آف کام میں شکایت دائر کی تھی۔ آف کام نے 6 فروری 2023 کو شایان علی کی شکایت برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا تھا کہ نشریات میں شایان علی کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک ہوا۔ آف کام کے مطابق براڈکاسٹر یہ ثابت نہیں کر سکا کہ اس نے سنگین الزامات نشر کرنے سے پہلے شایان علی کو مناسب اور بروقت جواب دینے کا موقع فراہم کیا۔آف کام نے اپنی آبزرویشن میں یہ بھی کہا تھا کہ پروگرام میں واقعے کو “بریکنگ نیوز” کے طور پر پیش کیا گیا، مگر الزامات کو اس انداز میں دکھایا گیا کہ ناظرین کو شایان علی واقعے کے ذمہ دار اور حملہ آور محسوس ہو سکتے تھے، حالانکہ واقعے کے حقائق متنازع تھے۔ ریگولیٹر کے مطابق نشر کی گئی ویڈیوز میں یہ واضح نہیں تھا کہ شایان علی جارحانہ انداز میں موبائل فون پھینک رہے ہیں، یا نواز شریف موقع پر موجود تھے، یا شایان علی نے انہیں اپروچ کرنے کی کوشش کی۔ عدالتی دستاویزات کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق شایان علی کا دعویٰ ہے کہ دنیانیوز نے متنازع الزامات کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر نشر کیا، جس سے برطانیہ، پاکستان اور دیگر مقامات پر ان کی شہرت کو نقصان پہنچا۔ شایان علی کا مؤقف ہے کہ انہیں سنگین اور ہتک آمیز الزامات کا مناسب جواب دینے کا موقع نہیں دیا گیا۔دوسری جانب دنیانیوز نے عدالت میں اپنا جواب جمع کرا دیا ہے اور شایان علی کے دعوے کی مخالفت کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق چینل کے وکیل کا کہنا ہے کہ قانونی کارروائی ہائی کورٹ میں جاری ہے، اس لیے اس مرحلے پر مزید تبصرہ مناسب نہیں۔ شایان علی کے وکیل نے بھی معاملہ عدالت میں ہونے کے باعث تفصیلی تبصرے سے گریز کیا ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق لندن ہائی کورٹ میں ہتکِ عزت کے مقدمات میں عدالت یہ دیکھتی ہے کہ شائع یا نشر کیا گیا مواد کسی شخص کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث بنا یا نہیں، کیا الزامات کو حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا۔فی الحال مقدمہ زیرِ سماعت ہے، اس لیے اسے شایان علی کی کامیابی یا چینل کی شکست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حتمی فیصلہ لندن ہائی کورٹ کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
495
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل