کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای)کی پیریاڈیکلز کمیٹی کا پہلا اجلاس کمیٹی کی چیئرپرسن منزہ سہام کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ملک بھر سے رسائل و جرائد کے مدیران اور کمیٹی اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں رسائل و جرائد کو درپیش مالی، انتظامی اور اشتہارات سے متعلق مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا اور ان کے حل کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔اجلاس کے آغاز میں چیئرپرسن منزہ سہام نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پیریاڈیکلز کے مسائل کے حل کے لیے مسلسل اور منظم کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے گزشتہ ورکشاپ اور حالیہ سی پی این ای سندھ کمیٹی کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اے بی سی سے متعلق پیچیدگیوں اور رجسٹریشن و تجدید کے مسائل کو وفاقی اور صوبائی سطح پر متعلقہ حکام کے سامنے اٹھایا جا چکا ہے اور امید ہے کہ جلد اس سلسلے میں مثبت پیش رفت ہوگی۔اجلاس کے دوران شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ رسائل و جرائد کو سرکاری اشتہارات کی تقسیم میں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ سرکاری ادارے اور کارپوریشنز بھی پیریاڈیکلز کو اشتہارات دینے میں دلچسپی نہیں لیتے۔ اراکین نے مطالبہ کیا کہ اخبارات کی طرح رسائل و جرائد کو بھی اشتہارات کی تقسیم میں مساوی اہمیت دی جائے۔ اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ موجودہ حالات میں صرف سرکاری اشتہارات پر انحصار کافی نہیں، بلکہ نجی شعبے سے مضبوط روابط استوار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ شرکا ء نے تجویز دی کہ پیریاڈیکلز اپنے مواد، قارئین اور رسائی کو موثر انداز میں نجی کمپنیوں اور کارپوریٹ اداروں کے سامنے پیش کریں تاکہ اشتہارات کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ اجلاس میں متعدد اراکین نے ڈمی اشاعتوں کے مسئلے کو بھی نہایت سنجیدگی سے اٹھایا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ غیر فعال یا محض اشتہارات کے حصول کے لیے قائم کی گئی ڈمی اشاعتیں حقیقی اور باقاعدگی سے شائع ہونے والے رسائل و جرائد کے حقوق متاثر کر رہی ہیں۔ اس موقع پر اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ سی پی این ای کی قیادت پہلے ہی متعلقہ حکام کے سامنے واضح کر چکی ہے کہ تنظیم ڈمی اشاعتوں کی نہ حمایت کرتی ہے اور نہ ہی انہیں قبول کرتی ہے۔شرکاء نے مطالبہ کیا کہ اشتہارات کی تقسیم اور دیگر سہولیات صرف انہی اشاعتوں کو دی جائیں جو باقاعدگی سے شائع ہوتی ہیں اور صحافتی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں شفاف اور موثر نظام وضع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ اجلاس کے دوران مختلف اراکین نے اپنے اپنے علاقوں میں رسائل و جرائد کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی اشاعتی لاگت، نیوز پرنٹ کی قیمتوں میں اضافہ، سرکاری اشتہارات کی کمی اور نجی شعبے سے محدود تعاون نے پیریاڈیکلز کی بقاء کو سنگین چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پیریاڈیکلز کمیٹی کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں تاکہ مسائل کی بروقت نشاندہی اور ان کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔ اجلاس میں یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ پیریاڈیکلز کے لیے الگ سے سفارشات مرتب کرکے سی پی این ای کی مرکزی قیادت اور متعلقہ سرکاری اداروں کو ارسال کی جائیں۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرپرسن منزہ سہام نے تمام اراکین کی تجاویز کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ اجلاس میں پیش کیے گئے تمام نکات کو تحریری سفارشات کی شکل دے کر سی پی این ای کی مرکزی قیادت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیریاڈیکلز کے حقوق کے تحفظ، اشتہارات کی منصفانہ تقسیم، اے بی سی کے مسائل کے حل، ڈمی اشاعتوں کے خاتمے اور نجی شعبے سے موثر روابط کے فروغ کے لیے کمیٹی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔اجلاس میں چیئرپرسن منزہ سہام کے ساتھ سی پی این ای سیکریٹریٹ کراچی میں ڈپٹی چیئرمین محمود عالم خالد، قاضی اسد عابد اور سلمان قریشی موجود تھے جبکہ سندھ سے اویس اسلم علی، اسلام آباد سے احمد شفیق،پنجاب سے سید انتظار حسین زنجانی، میاں اسلم اور بلال اسلم جبکہ بلوچستان سے میر بہرام بلوچ نے ویڈیو لنک پر شرکت کی۔
136
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل