لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بنچ نے سینئر صحافی عمران شفقت کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) ملتان کی جانب سے شروع کی گئی کارروائی معطل کر دی ہے۔ عدالت کے روبرو بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا این سی سی آئی اے ملتان کو لاہور میں مقیم صحافی کے خلاف کارروائی کا علاقائی دائرۂ اختیار حاصل ہے اور آیا ان کے خلاف لگائے گئے الزامات سائبر کرائم قوانین کے تحت قابلِ کارروائی جرم بنتے بھی ہیں یا نہیں۔ جسٹس خالد اسحاق نے عمران شفقت کی آئینی درخواست پر تحریری حکم جاری کیا۔ عمران شفقت کی جانب سے ایڈووکیٹ میاں داؤد عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ این سی سی ائی اے ملتان نے اپنے قانونی اور علاقائی دائرۂ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے لاہور کے رہائشی کے خلاف انکوائری شروع کی۔دستیاب تفصیلات کے مطابق عمران شفقت کے خلاف کارروائی ایک شکایت کے بعد شروع ہوئی۔ صحافی کے وکلا کا کہنا ہے کہ یہ شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی جانب سے این سی سی آئی اے ملتان کو دی گئی تھی اور اس کا تعلق عمران شفقت کی جانب سے حکومت سے متعلق کی گئی تنقید اور ان کے ایک یوٹیوب پروگرام سے تھا۔عمران شفقت نے این سی سی آئی اے کی کارروائی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے بنیادی اعتراض اٹھایا کہ وہ لاہور میں رہائش پذیر اور وہیں سے اپنی صحافتی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں، اس لیے این سی سی آئی اے ملتان کس قانونی اختیار کے تحت ان کے خلاف شکایت وصول کرکے انکوائری کر رہا ہے۔اس مقدمے کی ابتدائی سماعت میں بھی لاہور ہائیکورٹ نے عمران شفقت کو عبوری ریلیف دیتے ہوئے این سی سی آئی اے ملتان کو ان کے خلاف تادیبی کارروائی سے روک دیا تھا۔ عدالت نے عمران شفقت کو ہدایت کی تھی کہ وہ 4 اگست تک این سی سی آئی اے کے نوٹس کا جواب ذاتی طور پر یا اپنے وکیل کے ذریعے جمع کرا دیں، جبکہ کیس کی مزید سماعت 12 اگست تک ملتوی کی گئی تھی۔ جس کے بعد سینئر صحافی کی لیگل ٹیم نے این سی سی آئی ملتان ممیں جواب جمع کرادیا۔ تازہ سماعت کے دوران این سی سی آئی اے ملتان کی جانب سے تحریری جواب جمع کرایا گیا جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ عمران شفقت کے خلاف انکوائری این سی سی آئی اے ملتان کے علاقائی دائرۂ اختیار میں آتی بھی ہے یا نہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ یہ معاملہ بھی طے کیا جانا ضروری ہے کہ عمران شفقت کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کی نوعیت کیا ہے اور آیا وہ ایسے جرم کے زمرے میں آتے ہیں جس پراین سی سی آئی اے قانونی طور پر کارروائی کر سکتا ہے۔ این سی سی آئی اے کے مطابق یہ دونوں معاملات انکوائری آگے بڑھنے کے بعد واضح ہوسکتے ہیں اور چونکہ انکوائری ابھی ابتدائی مرحلے پر ہے، اس لیے اس وقت اسے چیلنج کرنا قبل از وقت ہے۔ رپورٹ کے مطابق انکوائری افسر نے علاقائی دائرۂ اختیار کے معاملے پر قانونی رائے حاصل کرنے کے لیے مزید مہلت بھی طلب کی۔ فریقین کے مؤقف سامنے آنے کے بعد لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ نے عمران شفقت کے خلاف این سی سی آئی اے ملتان کی مکمل کارروائی معطل کر دی۔ اس طرح عدالت کی جانب سے آئندہ سماعت اور قانونی نکات کے حتمی تعین تک این سی سی آئی کی انکوائری آگے نہیں بڑھ سکے گی۔ عدالت نے کیس میں 28 ستمبر 2026 کو حتمی دلائل مقرر کیے ہیں، موجودہ عدالتی حکم کا مطلب عمران شفقت کے خلاف الزامات کو ختم کرنا یا انہیں حتمی طور پر بے بنیاد قرار دینا نہیں بلکہ این سی سی آئی اے کی کارروائی کو اس وقت تک روکنا ہے جب تک عدالت یہ طے نہیں کر لیتی کہ متعلقہ دفتر کو قانونی طور پر انکوائری کا اختیار حاصل تھا یا نہیں اور آیا سامنے آنے والے الزامات سائبر کرائم قانون کے تحت کارروائی کا جواز فراہم کرتے ہیں۔کیس کا حتمی فیصلہ اس اعتبار سے اہم ہوسکتا ہے کہ یہ ایسے معاملات میں این سی سی آئی اے کے علاقائی دائرۂ اختیار کی حدود واضح کرے گا جہاں شکایت ایک شہر میں درج کی جائے جبکہ متعلقہ صحافی یا شہری کسی دوسرے شہر میں رہائش پذیر اور پیشہ ورانہ سرگرمیاں انجام دے رہا ہو۔کیس کی آئندہ اہم سماعت 28 ستمبر کو ہوگی، جس میں عدالت دائرۂ اختیار سمیت درخواست میں اٹھائے گئے قانونی نکات پر حتمی دلائل سنے گی
160
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل