خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اخبارات کو گزشتہ کئی برسوں سے واجب الادا رقم جو ایک ارب چالیس کروڑ ہے سے متعلق کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای)کی جانب سے2023 سے دائر درخواست کی سماعت 16 جولائی کو پشاور ہائی کورٹ میں ہوئی۔سماعت کے دوران سیکریٹری اطلاعات خیبر پختونخوا، مطیع اللہ خان، معزز عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور یقین دہانی کرائی کہ اخبارات کے واجبات کی ادائیگی کا عمل ترجیحی بنیادوں پر مکمل کر لیا جائے گا۔ دورانِ سماعت معزز عدالت نے واجبات کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ سرکاری اشتہارات کے واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث اخبارات اور دیگر میڈیا ادارے شدید مالی دبائو کا شکار ہیں، جس کے منفی اثرات صحافیوں، میڈیا ورکرز اور اخباری صنعت سے وابستہ دیگر ملازمین پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت، سیکریٹری اطلاعات اور متعلقہ حکام کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ اخبارات کے تمام واجب الادا بقایاجات 30 جولائی تک ادا کیے جائیں۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ مقررہ مدت کے اندر عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور ادائیگیوں کی تفصیلات پر مشتمل جامع رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی جائے۔یاد رہے کہ ایک ارب چالیس کروڑ میں ایک ارب کی منظوری صوبائی کابینہ کے اجلاس میں دی گئی تھی جس میں سے چالیس کروڑ محکمہ ا طلاعات کو وصول ہو چکے ہیں۔ سی پی این ای نے پشاور ہائی کورٹ میں2023 سے کیس دائر کیا ہوا ہے۔ کیس کی پیروی ممتاز قانون دان شاہد نسیم اور احسن مسعود ایڈوکیٹ نے کی اور معزز عدالت کو ادائیگیاں نہ ہونے کے باعث اخبارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔
94
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل