721

اخباری ملازمین کوکم سے کم تنخواہ 45 ہزار روپے ماہانہ دینے کا حکم۔۔

پشاور ہائی کورٹ نے اخبارات کے مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ صحافیوں اور دیگر ملازمین کی بقایا تنخواہیں اور واجبات ایک ماہ کے اندر ادا کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔یہ ہدایات جسٹس محمد اعجاز خان نے جمعرات کے روز اس درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیں جو اخباری مالکان کی جانب سے محکمہ اطلاعات خیبر پختونخوا کے ذمہ اشتہارات کی مد میں بقایا ادائیگیوں کے اجرا کے لیے دائر کی گئی تھی۔سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ محکمہ اطلاعات خیبر پختونخوا کی جانب سے اشتہارات کی مد میں بڑی رقم واجب الادا ہے، جس کے باعث اخباری اداروں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل اُتمان خیل نے عدالت کو بتایا کہ صحافیوں کی جانب سے تنخواہوں اور دیگر واجبات کی عدم ادائیگی سے متعلق 17 شکایات موصول ہوئی ہیں۔انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بعض اخباری مالکان اپنے ملازمین کو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ 45 ہزار روپے ماہانہ کم از کم اجرت سے بھی کم تنخواہ ادا کر رہے ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل نے مزید بتایا کہ صحافیوں اور دیگر ملازمین کے تقریباً ایک کروڑ 50 لاکھ روپے واجبات بقایا ہیں، جبکہ بعض ملازمین کو صرف 5 ہزار، 8 ہزار اور 10 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے۔جسٹس محمد اعجاز خان نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں اتنی کم تنخواہیں ہرگز قابل قبول نہیں۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق تمام آجر اپنے ملازمین کو کم از کم مقررہ اجرت ادا کرنے کے پابند ہیں اور عدالت مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق شکایات کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر اخباری مالکان کم از کم اجرت کے قانون پر عمل درآمد نہ کر سکے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا جائے گا۔ جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ ماضی میں بھی مزدوروں کے حقوق سے متعلق ایک مقدمے میں اسی نوعیت کی کارروائی کی ہدایت کی جا چکی ہے۔ اخباری مالکان کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت کو محکمہ اطلاعات کی جانب سے اشتہارات کی مد میں واجب الادا رقوم جاری کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ صحافیوں اور ملازمین کی تنخواہیں اور بقایا جات ادا کیے جا سکیں۔عدالت نے قرار دیا کہ حکومتی ادائیگیاں روکی نہیں جائیں گی، تاہم اخباری مالکان پر لازم ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے ملازمین کی تنخواہوں اور واجبات کی ادائیگی کی قانونی ذمہ داری پوری کریں۔ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو تجویز دی کہ صحافیوں اور ملازمین کی تنخواہیں بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ادا کی جائیں تاکہ ادائیگیوں میں شفافیت برقرار رہے اور تنخواہوں کی باقاعدہ تصدیق ممکن ہو سکے۔عدالت نے اخباری مالکان کو ایک ماہ کے اندر تمام بقایا واجبات ادا کرنے کی مہلت دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو آئندہ سماعت سے قبل عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔عدالت نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ مدت میں احکامات پر عمل نہ کیا گیا تو ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں