tv se zyada radio par kaam karna acha lagta hai 116

ساحر لودھی کے خلاف چیک ڈس آنر کا مقدمہ درج۔۔۔۔

معروف اینکرپرسن ساحر لودھی کے خلاف کراچی کے تھانہ شاہ لطیف ٹاؤن میں مبینہ طور پر بھاری مالیت کے چیک ڈس آنر ہونے پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 489-F اور 34 شامل کی ہیں۔ دستیاب ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ نمبر 1569/2026 تھانہ شاہ لطیف ٹاؤن میں 17 اگست 2026 کو درج کیا گیا۔ مجید کالونی لانڈھی کی رہائشی خاتون مدعیہ نے پولیس کو دیے گئے بیان میں ساحر لودھی سمیت دیگر افراد پر مالی لین دین کے سلسلے میں ایسے چیک دینے کا الزام عائد کیا ہے جو بینک میں جمع کرانے پر مبینہ طور پر رقم نہ ہونے کے باعث ڈس آنر ہوگئے۔ ایف آئی آر کے متن میں متعدد چیکس کے نمبرز اور ان کی مالیت بھی درج کی گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق چھ چیک ایسے بتائے گئے ہیں جن میں ہر ایک کی مالیت نو لاکھ روپے درج ہے، جبکہ ایک مزید چیک کی مالیت 44 لاکھ روپے اور ایک دوسرے چیک کی مالیت 20 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ اس طرح ایف آئی آر میں درج چیکس کی مجموعی مالیت حساب کے مطابق تقریباً ایک کروڑ 18 لاکھ روپے بنتی ہے۔ مدعی کا الزام ہے کہ مذکورہ چیکس مختلف اوقات میں اسے دیے گئے اور بینک میں جمع کرانے پر کلیئر نہ ہوسکے۔ ایف آئی آر میں بینک الحبیب لمیٹڈ کا بھی ذکر موجود ہے اور مدعی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ چیکس واپس ہونے کے بعد متعلقہ افراد کو اس بارے میں آگاہ کیا گیا، تاہم اس کے باوجود رقم کی ادائیگی نہ ہوسکی۔ پولیس نے ابتدائی بیان اور پیش کیے گئے چیکس کی بنیاد پر ساحر لودھی اور دیگر کے خلاف دفعہ 489-F/34 PPC کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ دفعہ 489-F ایسے چیک کے اجرا سے متعلق ہے جو کسی قرض یا مالی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے دیا گیا ہو اور بددیانتی کے عنصر کے ساتھ ڈس آنر ہوجائے، جبکہ دفعہ 34 مشترکہ نیت کے تحت کیے گئے فعل سے متعلق ہے۔ قانون کے تحت دفعہ 489-F میں جرم ثابت ہونے کی صورت میں تین سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں، تاہم صرف چیک کا باؤنس ہونا جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتا؛ مقدمے میں مالی ذمہ داری، چیک کے اجرا اور مبینہ بددیانتی سمیت دیگر عناصر بھی عدالت کے سامنے ثابت کرنا ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں