کیا کوئی وفاقی یا صوبائی وزیر کسی صحافی کے خلاف شکایت درج کرا سکتا ہے؟ قانونی عمل کیا کہتا ہے؟جب یہ خبریں سامنے آتی ہیں کہ کسی حکومتی وزیر نے ایک صحافی کے خلاف شکایت درج کرائی ہے تو فوری طور پر کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ کیا ایک وزیر کو قانونی طور پر کسی صحافی کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا اختیار حاصل ہے؟ کیا عوامی عہدے پر فائز ہونے کی وجہ سے اسے اضافی اختیارات حاصل ہوتے ہیں؟ اور شکایت درج ہونے کے بعد قانونی عمل کس طرح آگے بڑھتا ہے؟
مختصر جواب یہ ہے کہ جی ہاں، ایک حکومتی وزیر کسی صحافی کے خلاف شکایت درج کرا سکتا ہے، لیکن وہ یہ اقدام اپنے سرکاری عہدے کے خصوصی اختیار کے طور پر نہیں بلکہ ایک عام شکایت کنندہ (مدعی) کی حیثیت سے کرتا ہے۔ ایسی شکایت بھی اسی قانونی اور تفتیشی عمل سے گزرتی ہے جو دیگر مقدمات پر لاگو ہوتا ہے۔زیادہ تر جمہوری قانونی نظاموں میں عوامی عہدے رکھنے والے افراد کو بھی دیگر شہریوں کی طرح یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو وہ متعلقہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے پاس شکایت درج کرا سکیں۔
اگر کوئی وزیر یہ مؤقف اختیار کرے کہ کسی صحافی نے ہتکِ عزت، سائبر کرائم، دھمکی آمیز رویے یا کسی دوسرے مبینہ جرم کا ارتکاب کیا ہے تو وہ متعلقہ ادارے سے رجوع کر سکتا ہے۔ تاہم شکایت درج کرانا اس بات کا ثبوت نہیں ہوتا کہ واقعی کوئی جرم ثابت ہو گیا ہے۔اس کے بعد تفتیشی اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ آزادانہ طور پر اس بات کا جائزہ لیں کہ شکایت قانونی بنیاد رکھتی ہے یا نہیں۔قانونی ماہرین کے مطابق شکایت درج ہونا دراصل قانونی عمل کا آغاز ہوتا ہے، اختتام نہیں۔بہت سے معاملات میں اگر تفتیشی ادارے اس نتیجے پر پہنچیں کہ شواہد ناکافی ہیں یا قانون کے تحت کوئی قابلِ تعزیر جرم نہیں بنتا تو شکایت کو بند بھی کیا جا سکتا ہے۔اگرچہ اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی جانب سے درج کرائی جانے والی شکایات عمومی طور پر زیادہ عوامی توجہ حاصل کرتی ہیں، تاہم تفتیشی اداروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ فیصلے شکایت کنندہ کے عہدے یا حیثیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانون اور دستیاب شواہد کی روشنی میں کریں گے۔قانونی نظام میں عدالتی نگرانی، ضابطہ کار اور دیگر حفاظتی اقدامات اسی مقصد کے لیے موجود ہوتے ہیں تاکہ تحقیقات قانون کے مطابق اور شفاف انداز میں مکمل ہوں۔ البتہ ان حفاظتی اقدامات کی نوعیت اور دائرۂ کار ہر ملک کے قانونی نظام کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔کسی صحافی کے خلاف شکایت درج ہونا ہرگز اس بات کا مطلب نہیں کہ وہ کسی جرم کا مرتکب ثابت ہو چکا ہے۔
اگرچہ مختلف ممالک میں قانونی طریقہ کار ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں، تاہم انصاف کے بنیادی اصول اور مناسب قانونی کارروائی
زیادہ تر قانونی نظاموں کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے بھی بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ صحافیوں سے متعلق قوانین کا اطلاق انتہائی احتیاط سے کیا جانا چاہیے تاکہ آزادیٔ اظہار پر غیر ضروری دباؤ یا خوف پیدا نہ ہو۔۔
دوسری جانب یہ بھی ایک تسلیم شدہ قانونی اصول ہے کہ صحافی، دیگر تمام شہریوں کی طرح، قانون کے تابع ہوتے ہیں اور اگر ان کے خلاف قابلِ اعتبار الزامات موجود ہوں تو متعلقہ ادارے قانون کے مطابق ان کی تحقیقات کر سکتے ہیں۔
186