274

ڈراموں کے بولڈ مناظر،کیا فیملی انٹرٹینمنٹ بدل رہی ہے؟

تحریر: شازیہ انوار۔۔
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری ایک طویل عرصے سے اپنی مضبوط کہانیوں، خاندانی اقدار اور بہترین اداکاری کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانی جاتی رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستانی ڈرامے پورے خاندان کےساتھ بیٹھ کر دیکھے جاتے تھے۔ ان ڈراموں میں رومانس بھی ہوتا تھا، جذبات بھی مگر ایک حد اور تہذیب کے ساتھ یہی وجہ تھی کہ پاکستانی ڈراموں کو بھارتی اور دیگر انٹرنیشنل مواد کے مقابلے میں زیادہ باوقار اور فیملی فرینڈلی سمجھا جاتا تھا لیکن گزشتہ چند سالوں میں ڈرامہ انڈسٹری میں ایک واضح تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اب ایسے مناظر، ڈائیلاگز اور رومانوی سین عام ہوتے جا رہے ہیں جنہیں ماضی میں پاکستانی اسکرین کیلئے غیر مناسب تصور کیا جاتا تھا۔ پاکستانی ڈراموں اور فلموں میں بنیادی فرق یہی تھا کہ فلموں میں بولڈ مناظر فلمائے جاتے تھے اور ڈراموں کو ان خرافات سے دور رکھا جاتا تھا لیکن بتدریج یہ فرق مٹتا چلا گیا ۔
آج ناظرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ہماری ڈرامہ انڈسٹری آہستہ آہستہ اس راستے پر جا رہی ہے جہاں تفریح کے نام پر ہر چیز کو نارملائز کیا جا رہا ہے؟ شاید ابھی بہت سے لوگوں کو یہ تبدیلی معمولی لگتی ہو مگر حقیقت میں معاشرتی تبدیلی ہمیشہ آہستہ آہستہ ہی آتی ہے۔ پہلے ایک چھوٹا قدم اٹھایا جاتا ہے پھر وقت کے ساتھ وہی چیز معمول بن جاتی ہے اور بعد میں اس سے بھی زیادہ بولڈ یا متنازع مواد سامنے آنے لگتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ آج کئی ڈراموں میں ایسے مناظر شامل کئے جا رہے ہیں جنہیں لوگ اپنے بچوں یا والدین کےساتھ بیٹھ کر دیکھنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ رومانوی مناظر، غیر ضروری قربت، بولڈ ڈائیلاگز اور بعض اوقات غیر اخلاقی رویوں کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے جیسے وہ عام اور قابلِ قبول بات ہو یہی وہ پہلو ہے جس پر معاشرے کا ایک بڑا طبقہ تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر اسکرین پر ہر چیز کو”عام” بنا دیا جائے گا تو نئی نسل کی سوچ اور حساسیت بھی اسی حساب سے بدلتی چلی جائے گی۔
دوسری جانب کچھ لوگ اس بحث سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق ڈرامے صرف تفریح فراہم نہیں کرتے بلکہ معاشرے کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ معاشرہ بدل رہا ہے اسلئے ڈراموں میں بھی حقیقت دکھائی جا رہی ہے، کچھ ناقدین کے مطابق اگر کسی مسئلے یا تعلق کو حقیقت کے قریب دکھایا جائے تو اسے فوراً فحاشی یا بے حیائی قرار دینا درست نہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ وقت کے ساتھ اسٹوری ٹیلنگ کا انداز بھی تبدیل ہوتا ہے اور ناظرین اب زیادہ حقیقت پسند مواد دیکھنا چاہتے ہیں تاہم اس بحث کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جن ڈراموں پر سب سے زیادہ تنقید ہوتی ہے اکثر ان ہی کی ٹی آر پی اور ویوز بھی سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ لوگ سوشل میڈیا پر اعتراض بھی کرتے ہیں اور وہی ڈرامے لاکھوں ویوز بھی حاصل کرتے ہیں۔ یوٹیوب پر ٹرینڈنگ لسٹ دیکھیں تو اکثر متنازع یا بولڈ سین والے کلپس ہی سب سے زیادہ وائرل ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ چینل اور پروڈیوسرز بھی وہی مواد بنانے کی کوشش کرتے ہیں جو زیادہ توجہ حاصل کرے کیونکہ آج کے دور میں ویوز اور ٹی آر پی ہی کامیابی کا سب سے بڑا پیمانہ بن چکے ہیں۔
یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس صورتحال کے ذمہ دار صرف پروڈیوسرز اور چینل ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ناظرین بھی اس رجحان میں برابر کے شریک ہیں۔ اگر لوگ ایسے مواد کو مسلسل دیکھیں گے، شیئر کریں گے اور وائرل کریں گے تو یقینا چینل بھی اسی قسم کا کانٹینٹ بنائیں گے کیونکہ میڈیا ہمیشہ وہی دکھاتا ہے جس کی ڈیمانڈ ہو یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات عوام خود غیر محسوس طریقے سے ان تبدیلیوں کی حمایت کر تے ہیں جن پر بعد میں تنقید بھی کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب کسی بھی ڈرامے کا ایک چھوٹا سا کلپ چند منٹ میں وائرل ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی بولڈ یا متنازع سین ہو تو وہ فوراً ٹرینڈ کرنے لگتا ہے۔ لوگ تنقید کرتے ہیں، میمز بنتی ہیں، بحث شروع ہو جاتی ہے مگر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ڈرامے کی مقبولیت اور ویوز مزید بڑھ جاتے ہیں، اس طرح تنازع خود ایک پروموشنل ٹول بن جاتا ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ جب کوئی شخص ان تبدیلیوں پر اعتراض کرتا ہے تو لوگ اسے سنجیدگی سے لینے کے بجائے مذاق کا نشانہ بنا دیتے ہیں حالانکہ ہر تنقید صرف شہرت یا ویوز کیلئے نہیں ہوتی۔ بہت سے لوگ واقعی اس فکر میں مبتلا ہیں کہ ہماری فیملی تفریح کی حدود کہاں جا رہی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ڈرامے جدید ضرور ہوں مگر اپنی تہذیب، ثقافت اور خاندانی اقدار کو مکمل طور پر نہ بھولیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری نے ہمیشہ معاشرتی مسائل کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔ ماضی کے کئی ڈرامے آج بھی یاد کئے جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے بغیر غیر ضروری بولڈ مناظر کے طاقتور کہانیاں پیش کیں۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کامیابی حاصل کرنے کیلئے صرف سنسنی یا متنازع مواد ضروری نہیں بلکہ مضبوط اسکرپٹ، اچھی ہدایتکاری اور معیاری اداکاری بھی ناظرین کو متاثر کر سکتی ہے۔
یہ بحث صرف ڈراموں تک محدود نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی مجموعی سوچ کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ فیملی انٹرٹینمنٹ اپنی اصل شناخت برقرار رکھے تو اس کیلئے صرف چینل یا پروڈیوسرز نہیں بلکہ ناظرین کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنا ہوگی کیونکہ جو چیز مسلسل دیکھی اور پسند کی جائے وہی آہستہ آہستہ معاشرے میں نارمل بن جاتی ہے۔(شازیہ انوار)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں