بول نیوز میں خاتون مالکن ہوتے ہوئے بھی خواتین کے ساتھ حق تلفی اور ان کی باتوں کا نوٹس نہ لینے کا سلسلہ تاحال رک نہیں سکا۔۔ پپو نے انکشاف کیا ہے کہ بول نیوز کی ایک خاتون اینکر نے مارچ میں استعفا دیا، استعفے میں صاف بتایا کہ وہ شادی کے سلسلے میں استعفا دے رہی ہے کسی اور چینل سوئچ نہیں کررہی، اس لئے وہ نوٹس پیریڈ کے دس دن کام کرسکے گی باقی دنوں کو معاف کیا جائے۔۔ اس ریزائن کے جواب میں ایچ آر اور خاتون مالکن کی جانب سے کوئی رسپانس نہیں آیا، بلکہ الٹا خاتون اینکر سے اپنے روزانہ کے کام کے علاوہ ایکسٹرا کام لئے جانے لگے، رمضان ٹرانسمیشن بھی کرائی اور عید شوز بھی۔۔ عید کے بعد خاتون اینکر نے ادارہ چھوڑ دیا، مارچ کے مہینے میں خاتون اینکر نے صرف بائیس دن کام کیا، پپو کا کہنا ہے کہ فروری کی تنخواہ تو خاتون اینکر کو دے دی گئی لیکن مارچ کی سیلری یہ کہہ کر روک لی گئی کہ چونکہ آپ نے نوٹس پیریڈ پورا نہیں کیا اس لئے یہ سیلری آپ کو نہیں مل سکتی۔۔ پپو نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا جب خاتون اینکر نے اپنے استعفے میں دس دن نوٹس پیریڈ اور باقی دن معاف کرنے کی درخواست کی تھی تو کیا ایچ آر ڈپارٹمنٹ اور متعلقہ ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ سو رہے تھے؟ پپو کے مطابق خاتون اینکر اپنی سیلری کیلئے خاتون مالکن سے رابطہ کی کوشش بھی کررہی ہیں لیکن خواتین کے حقوق کی علمبردار، بول میں خواتین کیلئے دن منانے والی خاتون مالکن، اور خواتین ورکرز کیلئے نرم گوشہ رکھنے کی دعویدار خاتون مالکن اب تک خاتون اینکر کو کسی قسم کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔
621
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل