بی بی سی اردو کے سینئر صحافی ریاض سہیل کے بھائی اور نادرا کے افسر فیاض احمد جنجھی کے مبینہ لاپتہ ہونے کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے کہا ہے کہ فیاض احمد جنجھی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مشترکہ انٹیلی جنس کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور وہ لاپتہ نہیں تھے۔ترجمان ایف آئی اے کے مطابق فیاض احمد جنجھی، جو نادرا میں ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، کو نادرا کے مزید دو اہلکاروں اور ایک نجی ایجنٹ کے ساتھ حراست میں لیا گیا۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد پر افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات کے اجرا، سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ ادارے کے مطابق اس نیٹ ورک کے بعض دہشت گرد عناصر سے ممکنہ روابط کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔واضح رہے کہ ایک روز قبل فیاض احمد جنجھی کے اہل خانہ نے بتایا تھا کہ وہ کراچی کے علاقے عائشہ منزل میں واقع نادرا دفتر سے روانہ ہونے کے بعد گھر نہیں پہنچے، جس کے بعد ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی گئی تھی۔ اس واقعے پر صحافتی تنظیموں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ایف آئی اے کے تازہ بیان کے بعد معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ تاہم ادارے کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات اس وقت تحقیقات کا حصہ ہیں اور ان پر عدالت میں قانونی کارروائی ہونا باقی ہے۔ اس مقدمے میں کسی بھی فرد کے جرم یا بے گناہی کا حتمی فیصلہ متعلقہ عدالت ہی کرے گی۔ترجمان ایف آئی اے کے مطابق کراچی میں نادرا افسران سمیت 4 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور گرفتار ملزمان میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر نادرا انعام الحق، ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر نادرا فیاض احمد، چوکیدار نادرا جنید احمد اور محمد عمر شاہ شامل ہیں۔وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ ایسا گروہ گرفتار ہوا ہے جو افغان شہریوں کو شناختی کارڈ فراہم کرتا تھا، ملزمان کے رابطے موجودہ دہشتگردی کے واقعات سے بھی ملے ہیں۔
178
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل