پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کی صدر ڈاکٹر سعدیہ کمال، سیکریٹری جنرل انیس حیدر، سینئر نائب صدر ناصر شیخ، ایڈیشنل سیکریٹری جنرل عمر فاروق گوندل، سیکریٹری فنانس جاوید ملک اور سیکریٹری اطلاعات ایوب برمی نے بلوچستان حکومت کی میڈیا پالیسی اور اخبارات کی بندش کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس صورتحال کا نوٹس لیا جائے، انہوں نے پاکستان میں صحافیوں کی تمام یونین اور ایسوسی ایشن سے بھی اپیل کی کہ وہ متحد ہوکر صحافیوں کو درپیش مسائل ، ان کی جبری برطرفی اور تنخواہوں سمیت واجبات کی عدم ادائیگی پر لائحہ عمل طے کریں، انہوں نے کہاکہ اس وقت صحافی اور میڈیا ورکرز اپنے بدترین دور سے گزر رہے ہیں ، برسہا برس سے صحافتی خدمات انجام دینے والے صحافیوں، کیمرہ مین، فوٹو گرافرز کو بغیر کسی جواز کے ملازمتوں سے نکالا جارہا ہے ، انہوں نے کہاکہ بلوچستان حکومت نے نئی میڈیا پالیسی کے تحت اخبارات پر بندش لگادی ہے ، بلوچستان حکومت کو اپنی میڈیا پالیسی پر فوری نظرثانی کرنی ہوگی اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہئے جو صحافیوں کی بقاء اور آزادی کے منافی ہے، انہوںنے کہاکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اربوں روپے کے سرکاری اشتہارات میڈیا ہاؤسز اور اخبارات کو دیتی ہیں لیکن صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ کیلئے کسی قسم کے کوئی عملی اقدامات کرنے کو تیا رنہیں ہے۔
110
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل