142

عطا تارڑ کا نامناسب رویہ، احتجاجا واک آؤٹ کیا، سینیٹر سحر کامران۔۔۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر سحر کامران نے الزام عائد کیا ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ان کے ساتھ بلند آواز اور نامناسب انداز میں گفتگو کی۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب انہوں نے وزارت کے بجٹ میں اضافے اور متعدد زیرِ التوا معاملات کے بارے میں سوالات اٹھائے۔سینیٹر سحر کامران نے یہ بات آج ٹی وی کے پروگرام اسپاٹ لائٹ میں منیزے جہانگیر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے اس وائرل ویڈیو کے پس منظر کی بھی وضاحت کی جس میں انہیں منگل کے روز کمیٹی اجلاس سے احتجاجاً واک آؤٹ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ پارلیمانی نگرانی اور وزارت کی کارکردگی سے متعلق سوالات اٹھانے پر وفاقی وزیر نے مبینہ طور پر ’’نامناسب اور تصادم پر مبنی رویہ‘‘ اختیار کیا، جس کے خلاف انہوں نے اجلاس چھوڑ دیا۔سینیٹر سحر کامران کے مطابق تنازع اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے وزارت اطلاعات و نشریات کے بجٹ میں 12 ارب روپے سے بڑھا کر 14.5 ارب روپے کیے جانے کی وضاحت طلب کی۔انہوں نے وزارت میں بھرتیوں کے طریقہ کار، پاکستان ٹیلی ویژن کے کاروباری منصوبے اور پی ٹی وی ملازمین کی تنخواہوں میں طویل تاخیر سے متعلق بھی سوالات کیے۔سینیٹر کا کہنا تھا کہ ان سوالات پر وفاقی وزیر ناراض ہوگئے اور انہوں نے الزام لگایا کہ سحر کامران ’’پی ٹی وی فوبیا‘‘ کا شکار ہیں۔ان کے مطابق وزیر اطلاعات نے کمیٹی کے چیئرمین سے اجلاس کے طریقہ کار کے بارے میں سوال کیا، پی ٹی وی کی جانب سے فیفا ورلڈ کپ نشر کیے جانے کا حوالہ دیا اور انہیں اپنی بات مکمل کرنے کا موقع نہیں دیا۔سحر کامران نے کہا کہ جب انہیں محسوس ہوا کہ وہ اجلاس کے تمام ایجنڈا نکات پر بات نہیں کرسکیں گی تو انہوں نے احتجاجاً اجلاس چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔سینیٹر سحر کامران نے قائمہ کمیٹی کی کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کا اجلاس چھ ماہ کے وقفے کے بعد منعقد کیا گیا۔ان کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ اجلاسوں میں تاخیر حکومتی کفایت شعاری کی پالیسی کا حصہ تھی، تاہم انہوں نے اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران قومی اسمبلی کی دیگر قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس باقاعدگی سے ہوتے رہے۔انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کا اس سے قبل اجلاس 17 فروری کو منعقد ہوا تھا۔سحر کامران نے گزشتہ اجلاس میں پی ٹی وی کے معاملات کا جائزہ لینے اور ادارے کی مالی و انتظامی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے قائم کی گئی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ سے متعلق بھی سوال اٹھایا۔ان کے مطابق تازہ اجلاس کے ایجنڈے میں ذیلی کمیٹی کی کوئی رپورٹ شامل نہیں تھی۔ انہوں نے وزارت کے بڑھتے ہوئے منصوبوں سے متعلق بھی سوالات کیے، مگر انہیں کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔سینیٹر سحر کامران کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات نے اجلاس کی کارروائی کے دوران ان کی تنقید کو مسترد کیا اور پی ٹی وی سے متعلق ان کے مؤقف کو چیلنج کیا۔تاہم اجلاس کے بعد سحر کامران کی جانب سے ایکس اور ٹیلی ویژن انٹرویو میں عائد کیے گئے الزامات پر عطا اللہ تارڑ کی جانب سے فوری طور پر کوئی عوامی بیان سامنے نہیں آیا۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں سینیٹر سحر کامران کو کمیٹی روم سے باہر نکلتے ہوئے یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی عزتِ نفس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گی۔ اس ویڈیو کے بعد یہ معاملہ عوامی اور سیاسی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں