لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کی جانب سے عوام کو کم قیمت پر رہائشی پلاٹ فراہم کرنے کے لیے 1993ء میں شروع کی جانے والی 6,243 ایکڑ پر مشتمل ہاکس بے اسکیم 42 تاحال مکمل نہ ہو سکی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے 33 سال گزرنے کے باوجود اسکیم میں ترقیاتی کام مکمل نہ ہونے، الاٹیز کو قبضہ اور لیز فراہم نہ کیے جانے، جبکہ متعدد پلاٹوں پر تجاوزات کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسکیم کی تحقیقات کا حکم دے دیا اور سیکریٹری بلدیات سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔منگل کو پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں کمیٹی اراکین قاسم سومرو، طٰحہ احمد، مخدوم فخرالزمان، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، ڈی جی ایل ڈی اے محمد حسین گھمرو اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں آڈٹ حکام نے اعتراض اٹھایا کہ 1993ء میں عوام کو رہائشی سہولت فراہم کرنے کے لیے ایل ڈی اے کے سپرد کی گئی 6,243 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہاکس بے اسکیم 42 میں عوام سے الاٹمنٹ اور دیگر مدات میں 605 ملین روپے سے زائد وصول کیے جانے کے باوجود منصوبے کی زمین مؤثر طور پر استعمال میں نہیں لائی جا سکی۔س موقع پر چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے ایل ڈی اے حکام سے استفسار کیا کہ 1993ء سے اب تک کتنے افراد کو پلاٹ الاٹ کیے گئے، کتنے پلاٹوں پر قبضہ دیا گیا، کتنے پلاٹ تجاوزات کی زد میں ہیں، ترقیاتی کام کس حد تک مکمل ہوا اور کتنے الاٹیز کو لیز جاری کی گئی۔سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد نے کمیٹی کو بتایا کہ ہاکس بے اسکیم 42 کے مختلف سیکٹرز میں تجاوزات قائم ہیں، جس کے باعث متعدد الاٹیز کو پلاٹوں کا قبضہ نہیں مل سکا۔ انہوں نے بتایا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ڈی جی ایل ڈی اے محمد حسین گھمرو نے بتایا کہ 1993ء میں کے ڈی اے نے 11 ہزار ایکڑ اراضی میں سے 6,243 ایکڑ ہاکس بے اسکیم 42 کے لیے ایل ڈی اے کے حوالے کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اراضی کی میوٹیشن مکمل کر لی گئی ہے اور الاٹیز کو لیز کے حصول کے لیے اخبارات میں اشتہارات بھی دیے گئے ہیں، تاہم 57 ہزار الاٹیز میں سے تاحال کسی ایک کو بھی لیز جاری نہیں کی جا سکی۔انہوں نے مزید بتایا کہ فی پلاٹ لیز فیس 35 ہزار سے 60 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اسکیم میں مجموعی طور پر 57 ہزار پلاٹ الاٹ کیے گئے ہیں، جبکہ کمرشل پلاٹس کی نیلامی بھی جلد کی جائے گی۔ علاوہ ازیں ایل ڈی اے 25 ایکڑ اراضی پر ایک نئی ہاؤسنگ اسکیم بھی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ایکسین ایل ڈی اے نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسکیم میں سیوریج، پانی کی فراہمی، سڑکوں کی تعمیر اور ڈیمارکیشن سمیت تقریباً 70 فیصد ترقیاتی کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ صحافی کالونی کے بلاک 2، بلاک 3 اور بلاک 3-اے میں بنیادی انفراسٹرکچر مکمل کیا جا چکا ہے۔چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کہ 1993ء میں شروع ہونے والی اسکیم کو 33 سال گزر چکے ہیں، اس کے باوجود منصوبہ تاحال مکمل نہ ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے رقوم وصول کیے جانے کے باوجود انہیں نہ مکمل قبضہ ملا اور نہ ہی لیز جاری کی گئی، جو متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔اجلاس کے اختتام پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہاکس بے اسکیم 42 میں ترقیاتی کاموں میں تاخیر، الاٹیز کو قبضہ اور لیز نہ ملنے اور تجاوزات کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری بلدیات کو فوری تحقیقات کا حکم دیا اور آئندہ اجلاس میں جامع اور تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
165
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل