989

اے جی این کا ستایا رپورٹر پیمرا پہنچ گیا۔۔۔

اے جی این نیوز لاہورکا ستا یاہوا رپورٹر انصاف کے لیے پیمرا پہنچ گیا۔ کبیر علی نامی درخواست گزار نے پیمرا کے نام درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ تقریبا سات ماہ قبل اے جی این نیوز کے چیف رپورٹر سے رابطہ کیا اور اسے اے جی این میں رپورٹر کی نوکری کیلئےکہا، اس نوکری کیلئے اس نے درخواست گزار سے تیس ہزار روپے نذرانہ وصول کیا اور بیوروچیف سے انٹرویو کرادیا،جنہوں نے درخواست گزارکواوکے کردیا اور ماہانہ تنخواہ چالیس ہزار روپے مقرر کردی اس کے ساتھ ہی لیسکو واپڈا کی بیٹ دے دی۔ درخواست گزار نےاپنا کام نہایت ایمانداری سے سر انجام دیا ایک ماہ بعد چیف رپورٹر سے میڈیا کارڈ اور تنخواہ کے بات کی تو وہ ٹال مٹول سے کام لینے لگا اور اس دوران مجھ سے مختلف اوقات میں تنخواہ دلانے کے بہانے ۔مجھے بلیک میل کرکے رقوم وصول کرتا رہا جس کا ثبوت موجود ہے۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ چیف رپورٹراس سے کہتا کہ اداروں کی خبریں نکال کر انہیں بلیک میل کرکے دیہاڑی لگاؤ اور ہمیں بھی دو لیکن درخواست گزار ایسا کرنے سے انکار کیا توچیف رپورٹرنے ملی بھگت کرکے سات ماہ بعد اسے اے جی این نیوز سے نکلوا دیا اور جب درخواست گزار نے تنخواہ کا مطالبہ کیا تو اسے دھمکیاں دی گئیں اور کہا گیا کہ اے جی این کا مالک اثرورسوخ والا آدمی ہے اور وہ بندے غائب کردیتایے ،درخواست گزار نے پیمرا سے اپیل کی ہے کہ اس کی سات ماہ کی تنخوا بحساب چالیس ہزار روپے کے حساب سے دو لاکھ اسی ہزار روپے دلائے جائیں اورچیف رپورٹر اور چینل انتظامیہ کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ آیندہ یہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ کرسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں