158

آفاق احمد وڈیو جرنلٹس سے غیرمشروط معذرت کریں، ورکنگ جرنلسٹس فورم۔۔

ورکنگ جرنلسٹس فورم کے بانی و مرکزی صدر میاں خرم شہزاد، جنرل سیکریٹری ساجد احمد، مرکزی چیف آرگنائزر عامر رضا، مرکزی و صوبائی عہدیداران اور مجلسِ عاملہ کے اراکین نے مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد کی جانب سے جلسے کے دوران میڈیا نمائندوں، بالخصوص ویڈیو جرنلسٹس کے ساتھ روا رکھے گئے ناروا اور غیر مناسب رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیِ صحافت، صحافتی اقدار اور میڈیا کے وقار کے خلاف قرار دیا ہے۔ ورکنگ جرنلسٹس فورم کے رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ 24 جولائی کو مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کے شعبۂ اطلاعات کی جانب سے مختلف ٹی وی چینلز، اخبارات اور ڈیجیٹل میڈیا اداروں کو باضابطہ دعوت نامے ارسال کیے گئے، جن کی بنیاد پر 25 جولائی کو متعدد میڈیا نمائندے جلسے کی کوریج کے لیے موقع پر پہنچے۔ تاہم افسوسناک طور پر جلسے کے دوران ویڈیو جرنلسٹس کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے سے روکا گیا اور ان کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا گیا جو کسی بھی جمہوری اور مہذب معاشرے میں ناقابل قبول ہے۔ میڈیا کسی بھی سیاسی، سماجی یا مذہبی جماعت کا ترجمان نہیں بلکہ عوام تک درست، بروقت اور غیر جانبدار معلومات پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ صحافی اپنی ذمہ داریاں پیشہ ورانہ اصولوں کے مطابق انجام دیتے ہیں، اس لیے انہیں ہراساں کرنا، کوریج سے روکنا یا ان کی تضحیک کرنا آزادیِ اظہار اور آزادیِ صحافت پر حملے کے مترادف ہے۔ ورکنگ جرنلسٹس فورم کے عہدیداران نے کہا کہ اگر آفاق احمد خود یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ میڈیا مالکان ان کے جلسوں کی کوریج نشر نہیں کرتے اور صرف فوٹیج نیوز ایجنسیوں کو فراہم کر دی جاتی ہے، تو پھر ان کے شعبۂ اطلاعات کی جانب سے میڈیا اداروں کو بار بار کوریج کی دعوت دینا اور درخواستیں کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اگر ایسا مؤقف ہے تو پہلے اس معاملے کو میڈیا مالکان کے ساتھ اٹھایا جائے، نہ کہ اپنی دعوت پر آنے والے صحافیوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ صحافی کسی ادارے کی پالیسی بنانے یا نشر ہونے والے مواد کے ذمہ دار نہیں ہوتے۔ ان کا کام صرف خبر کی کوریج کرنا اور حقائق کو ریکارڈ کرنا ہے۔ لہٰذا کسی ادارتی فیصلے کی بنیاد پر فیلڈ میں موجود رپورٹرز اور کیمرہ پرسنز کے ساتھ ناروا سلوک کرنا نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ انتہائی افسوسناک عمل ہے۔ ورکنگ جرنلسٹس فورم نے آفاق احمد سے مطالبہ کیا کہ وہ میڈیا برادری، خصوصاً متاثرہ ویڈیو جرنلسٹس سے غیر مشروط طور پر معذرت کریں اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے واضح ہدایات جاری کریں تاکہ کسی بھی صحافی کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کرنے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ WJF نے تمام سیاسی، مذہبی، سماجی اور دیگر تنظیموں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے ساتھ احترام، برداشت اور پیشہ ورانہ تعاون کا رویہ اختیار کریں، کیونکہ آزاد اور محفوظ صحافت ہی ایک مضبوط، جمہوری اور باخبر معاشرے کی بنیاد ہے۔ ورکنگ جرنلسٹس فورم نے میڈیا مالکان سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے رپورٹرز، ویڈیو جرنلسٹس اور دیگر میڈیا ورکرز کے تحفظ، عزت اور پیشہ ورانہ حقوق کے لیے مؤثر اور واضح مؤقف اختیار کریں۔ ایسے واقعات کے بعد متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ صحافیوں کی سلامتی اور وقار کو اولین ترجیح دیں اور اس حوالے سے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں