اے بی این کے رپورٹر عون رضا گوپانگ کو خبر کی اشاعت پر ہیلتھ سروسز اکیڈی، ائرکموڈور عبدالوہاب موتلہ اور وائس چانسلر شہزاد علی ان کی جانب سے لیگل نوٹس بھیجا گیا ہے۔۔۔ رپورٹر عون رضا گوپانگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انکشاف کیا ہے کہ۔۔ مجھے ایک خبر کی اشاعت کے بعد ہیلتھ سروسز اکیڈمی، ائیر کموڈور عبدالوہاب موتلہ اور وائس چانسلر شہزاد علی خان کی جانب سے قانونی نوٹس موصول ہوا ہے۔ یہ خبر ہراسمنٹ کیس سے متعلق دستیاب سرکاری دستاویزات، فیصلے اور دیگر قابلِ تصدیق شواہد کی بنیاد پر نشر کی گئی تھی۔ خبر کی اشاعت سے قبل متعلقہ فریق سے باقاعدہ مؤقف بھی طلب کیا گیا اور ان کا مؤقف بھی خبر میں شامل کیا گیا، کیونکہ صحافت کا بنیادی اصول یہی ہے کہ کسی بھی معاملے کے تمام متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے لایا جائے۔ قانونی نوٹس موصول ہونا میرے لیے کسی دباؤ کا باعث نہیں، بلکہ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ صحافت میں حقائق، دستاویزات اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھنا کتنا ضروری ہے۔ اگر خبر میں کسی دعوے یا حقیقت کے حوالے سے کوئی غلطی موجود ہے تو متعلقہ فریق کو اس کی نشاندہی اور وضاحت کا مکمل حق حاصل ہے، اور میں بھی صحافتی اصولوں کے مطابق ہر درست وضاحت کو جگہ دینے کے لیے تیار ہوں۔ میرا مقصد کسی فرد کی کردار کشی یا کسی ادارے کو نشانہ بنانا نہیں، بلکہ ایک ایسے معاملے کو عوام کے سامنے لانا ہے جس سے متعلق سرکاری ریکارڈ اور اہم سوالات موجود ہیں۔ اختلافِ رائے یا قانونی نوٹس صحافتی سوالات کی اہمیت کو ختم نہیں کرتے۔میں اپنے صحافتی عمل، دستیاب ریکارڈ اور خبر میں شامل حقائق کے حوالے سے مکمل طور پر مطمئن ہوں۔
394
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل