آج نیوز انتظامیہ نے عطاء تارڑ کو “ماموں” بنا دیا۔ تین ماہ ختم اور چوتھے ماہ سے تنخواہوں کے منتظر آج نیوز کے ملازمین شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر کے احکامات تھے کہ تمام سیلریز کلیئر کرنے کے بعد ہی دوبارہ اشتہارات دیے جائیں، تاہم اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔عیدالاضحیٰ سے قبل دو ماہ کی تنخواہیں جاری کیے جانے کے باوجود حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی اور ملازمین آج بھی بقایا تنخواہوں کے منتظر ہیں۔عیدالاضحیٰ سے قبل 80 ہزار روپے یا اس سے کم تنخواہ لینے والے ملازمین کو دو ماہ کی تنخواہیں ادا کی گئیں، جبکہ 80 ہزار روپے سے زائد تنخواہ لینے والے ملازمین کو دو روز قبل صرف مارچ کی تنخواہ جاری کی گئی۔ اس کے باوجود متعدد ملازمین اب بھی تین ماہ کی تنخواہوں کے منتظر ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ بقایا تنخواہیں کب ادا کی جائیں گی۔ملازمین کا کہنا ہے کہ ڈاؤن سائزنگ کے دوران پاکستان بھر سے سو سے زائد ملازمین کو فارغ کر دیا گیا۔ اب ادارے میں گنتی کے ملازمین رہ گئے ہیں، لیکن وہ بھی تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے تنگ آ کر ملازمت چھوڑ رہے ہیں۔جو افراد اب بھی کام کر رہے ہیں، وہ انتہائی دباؤ اور “جیل جیسے ماحول” میں فرائض انجام دینے پر مجبور ہیں کیونکہ عملہ بہت کم رہ گیا ہے۔ملازمین کو یہ کہہ کر نکالا گیا کہ چینل بجٹ سے باہر جا رہا ہے اور آمدن کم ہے، لیکن دوسری جانب مالکان کروڑوں روپے کی گاڑیاں خرید رہے ہیں۔40 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والا شخص تین ماہ بغیر تنخواہ کے گھر کیسے چلائے، دفتر آنے جانے کا کرایہ کہاں سے دے، اس کا جواب انتظامیہ کے پاس بھی نہیں۔ گنتی کے ملازمین رہ جانے اور بھرپور اشتہارات ملنے کے باوجود اگر ادارے کے مسائل ختم نہیں ہو رہے تو پھر چینل بند کر دینا چاہیے تاکہ باقی ملازمین کسی دوسری جگہ روزگار حاصل کر سکیں۔کئی سال سے کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ میڈیکل سہولت کے نام پر بھی کٹوتیاں کی گئیں۔ بعد ازاں ایچ آر کی جانب سے نئی میڈیکل سہولت شروع کرنے کا اعلان کیا گیا، تاہم اس حوالے سے بھی تاحال کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
300
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل