92 نیوز میں نئی انتظامیہ کی جانب سے کیمرہ پرسنز کے لیے مبینہ طور پر ایسا فیصلہ سامنے آیا ہے جس نے پورے میڈیا حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق تمام کیمرہ پرسنز کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ اب ہر اسائنمنٹ اپنی ذاتی موٹر سائیکل اور اپنے ذاتی خرچ پر مکمل کریں، جبکہ ادارہ کسی قسم کی سفری سہولت یا ٹرانسپورٹ فراہم نہیں کرے گا۔ مزید یہ کہ اس حکم پر عمل نہ کرنے والوں کو ملازمت سے فارغ کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ واضح رہے عمران جونیئر ڈاٹ کام پر دو ہفتے پہلے ایک خبر میں کراچی بیورو کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ یہاں کیمرہ مینوں پر پابندی لگائی گئی ہے کہ وہ ہر اسائنمنٹ اپنی بائیک پر جاکر کور کریںگے، جب کہ کسی کیمرہ مین کو فیول الاؤنس بھی نہیں دیا جاتا اور نہ ہی تنخواہوں میں کسی قسم کا اضافہ کیا گیا ہے۔۔ صحافتی حلقوں میں یہ بات بھی زیرگردش ہے کہ اگر اس معاملے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے تو یہ خاموشی صرف 92 نیوز کے کارکنوں کے ساتھ نہیں بلکہ پوری صحافی برادری کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ آج اگر ایک ادارے میں ملازمین کو اپنے وسائل پر کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے تو کل یہی روایت دوسرے اداروں تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ میڈیا مالکان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صحافی اور کیمرہ پرسن مشینیں نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو ہر موسم، ہر خطرے اور ہر مشکل حالات میں عوام تک خبر پہنچاتے ہیں۔ ان پر اضافی مالی بوجھ ڈالنا اور ملازمت سے نکالنے کی دھمکیاں دینا کسی بھی مہذب اور پیشہ ورانہ ماحول کی عکاسی نہیں کرتا۔ چینل انتظامیہ کو چاہئے کہ فوری طور پر اس متنازع فیصلے کو واپس لے،اور صحافتی تنظیموں، یونینز اور میڈیا ورکرز کو اس معاملے پر واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ خاموشی اس ناانصافی کی تائید سمجھی جائے گی۔
1,268
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل