542

92نیوز، کیمرہ مینوں کی بائیکس میں ٹریکرلگادیئے گئے۔۔

نائنٹی ٹو نیوز میں چینل انتظامیہ نے ملک بھر میں اسائنمنٹ اور ایونٹس پر دفتر کی گاڑیاں بھجوانے کا سلسلہ بند کردیا اب کیمرہ مینوں کو ان کی اپنی موٹرسائیکل پر اسائنمنٹ اور ایونٹ کور کرنے کیلئے بھیجا جارہا ہے، جس کے لئے چینل انتظامیہ نے کیمرہ مینوں کی موٹرسائیکلوں میں ٹریکر لگوانے شروع کردیئے تاکہ کیمرہ مینوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاسکے۔۔ پپو نے انکشاف کیا ہے کہ 92 نیوز کی انتظامیہ نے پورے پاکستان کے کیمرہ مین کے لیے خصوصی ہدایت جاری کی ہے کہ کوئی بھی اسائنمنٹ اب اپنے موٹر سائیکل کے اوپر کریں گے اور نہ ہی پیٹرول دیا جائے گا نہ کوئی مینٹیننس کے پیسے دئے جائیں گے اور اگر کوئی نہیں کرتا تو وہ گھر جا سکتا ہے۔۔پپو کے مطابق کراچی بیورو میں پانچ کیمرہ مینوں کی بائیکس میں ٹریکر لگوا دیئے گئے۔۔ پپو کا مزید کہنا ہے کہ ٹریکر لگوانے پر فی موٹرسائیکل چینل انتظامیہ کا بیس ہزار روپے سال کا خرچ ہوگا، جس میں بارہ ہزار روپے سالانہ ٹریکر کی فیس اور آٹھ ہزار روپے ٹریکر کی قیمت شامل ہے۔۔چینل انتظامیہ کے نااہل و نادان مشیروں کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اگر وہ اس کی جگہ اپنے کیمرہ مینوں کو پندرہ سو کے بیلنس کے ساتھ ایک ایک موبائل سم دے دیتے تو اس سے بھی ان کی مانیٹرنگ کی جاسکتی تھی اور چینل کا خرچہ بچ جاتا ، جتنے پیسوں کی بچت ہوتی وہ کیمرہ مینوں کو پٹرول الاؤنس کی مد میں دے دیتے جس سے ان بے چاروں کا مورال بھی بلند ہوجاتا اور پہلے سے زیادہ دل لگا کر کام کرتے۔۔ پپو کا مزید کہنا ہے کہ ایک طرف تو چینل انتظامیہ کی جانب سے لنگرخانوں میں خیراتی کھانے دیئے جاتے ہیں لیکن دوسری جانب خود ان کے چینل ملازمین کا حال بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے، انہیں نت نئی پابندیوں کا شکار بنایاجارہا ہے۔۔ پپو کا مزید کہنا ہے کہ کراچی بیورو میں بغیرکسی وجہ کے دو کیمرہ مین بیس روز سے معطلی کا شکار ہیں، ان کا قصور بس اتنا تھا کہ جب چینل مالک دفتر میں موجود تھا تو تمام کیمرہ مینوں کو آدھا گھنٹے میں شرافی گوٹھ کے قریب واقع دفتر پہنچنے کا حکم دیا گیا تھا اور یہ دونوں تاخیر سے پہنچے تھے کیوں کہ ایک ملیر اور دوسرا گلشن معمار میں رہائش پذیر ہے جہاں سے آدھے گھنٹے میں دفتر پہنچنا ناممکن تھا۔۔پپو کے مطابق چینل پالیسی کے مطابق معطلی کا شکار ہونے والوں کی تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے، جتنے دن کوئی ورکر معطل رہے گا اتنے دن کی تنخواہ اسے نہیں دی جاتی۔۔لاہور کے ایک سینئر صحافی نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ 92 نیوز چینل میں رپورٹرز کی تنخواہوں پر 10 سے 20 فیصد تک کٹوتی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔۔ عمران جونیئر ڈاٹ کام کو اس بارے میں تفصیل کا علم نہیں ہوسکا۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں