peca ke khilaaf ki samaat wafaq ko mazeed 2 haftay ki mohlat 21

صحافی فخر الرحمٰن کو پیکا کیس میں ضمانت مل گئی۔۔

اسلام آباد میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے سینئر صحافی فخرالرحمن کو پیکا کیس میں ضمانت دے دی۔۔ فخر الرحمٰن کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے گرفتار کیا تھا۔فخر الرحمٰن کو ہفتے کے روز حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کے خلاف 20 اپریل کو درج کی گئی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں انہیں ان نو افراد میں شامل کیا گیا تھا جن پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ طور پر “جھوٹی اور گمراہ کن معلومات” پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔پیر کے روز ہونے والی سماعت کے دوران فخر الرحمٰن کے وکیل بیرسٹر احد کھوکھر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ این سی سی آئی اے ان کے مؤکل کا موبائل فون پہلے ہی اپنی تحویل میں لے چکی ہے، لہٰذا مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں رہی۔وکیلِ صفائی نے عدالت کو بتایا کہ فخر الرحمٰن ایک سینئر شہری ہیں اور انہیں باقاعدگی سے ادویات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے مؤکل نے کوئی ذاتی رائے نہیں دی بلکہ صرف ایک مذہبی شخصیت سے منسوب بیان شیئر کیا تھا۔دفاعی وکیل نے مقدمے کے قانونی نکات پر بھی اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر میں ملزمان کے کردار کو واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا اور الزامات کو “بے بنیاد” قرار دیا۔دوسری جانب پراسیکیوشن نے ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ صحافت ایک ذمہ دار پیشہ ہے اور مبینہ اقدامات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہییں۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ نے فیصلہ محفوظ کیا، جسے بعد ازاں سناتے ہوئے فخر الرحمٰن کی ضمانت منظور کر لی گئی۔ عدالت نے انہیں 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت بھی کی۔این سی سی آئی اے نے یہ مقدمہ پیکا کی دفعہ 20 (کسی شخص کی عزت کے خلاف جرائم) اور دفعہ 26-اے (جھوٹی اور جعلی معلومات کی ترسیل) کے تحت درج کیا تھا۔ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمان نے “بدنیتی اور مذموم مقاصد” کے تحت ایسا مواد پھیلایا جس سے عوام میں بے چینی پیدا ہونے اور ریاستی اداروں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔مقدمے میں نامزد دیگر افراد میں صحافی صابر شاکر، اینکر پرسن معید پیرزادہ سمیت متعدد سیاسی اور سوشل میڈیا شخصیات شامل ہیں۔شکایت میں کہا گیا کہ ملزمان کی آن لائن سرگرمیوں کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ وہ مبینہ طور پر ریاستی اداروں کا مذاق اڑانے اور انہیں بدنام کرنے کی منظم کوشش کر رہے تھے، جس سے معاشرے میں خوف اور بے چینی پھیل رہی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں