410

صحافی اکرام راجہ کی گرفتاری کے بعد ملازمت سے برطرفی۔۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے صحافی اکرام راجہ کو پاکستان رائٹس موومنٹ کے سرپرست سابق سینیٹر مشتاق احمد کے ساتھ انٹرویو اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے دوران سیکیورٹی اداروں نے حراست میں لیا۔ بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا اور ان کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی ہوئی نہ کوئی مقدمہ کیا گیا۔۔ تاہم رہائی کے بعد جس رویے کی توقع ان کے اپنے ادارے سے تھی، وہ انہیں نہ مل سکا۔ اکرام راجہ کے مطابق، جس نیوز چینل روہی نیوز کے لیے انہوں نے حال ہی میں ملازمت اختیار کی تھی، اس ادارے نے نہ تو ان کی رہائی کے لیے کوئی عملی یا اخلاقی کوشش کی اور نہ ہی گرفتاری کے دوران ان کے ساتھ کھڑا ہونے کا تاثر دیا۔رہائی کے فوراً بعد انہیں روہی چینل انتظامیہ کی جانب سے کال موصول ہوئی۔ انہیں رہائی کا پوچھنے کے فوری بعد لاہور طلب کیا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ وہ کیوں گرفتار ہوئے تھے؟ اکرام راجہ نے انتظامیہ کو بتایا کہ وہ گرفتاری اور حراست کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، اس لیے فوری طور پر لاہور آنا ممکن نہیں۔ انہوں نے تحریری وضاحت دینے کی پیشکش بھی کی اور فون پر انتظامیہ کو پورا واقعہ بھی بیان کر دیا۔ اکرام راجہ کے مطابق وہ انتظامیہ کے روئیے پر شدید مایوس ہوئے کہ بجائے ان کی سکیورٹی کو مقدم رکھنے اور ان کا ساتھ دینے کے الٹا ان سے وضاحت طلب کی گئی کہ آپ گرفتار کیوں ہوئے؟ بعد ازاں انتظامیہ نے انہیں ہدایت کی کہ ان کے پاس موجود ادارے کے تمام ایکریڈیٹیشنز واپس کر دی جائیں۔ اکرام راجہ کے مطابق، اسی مرحلے پر انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ ادارہ انہیں ملازمت سے فارغ کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ اور محض فیصلہ سنانے کیلئے لاہور طلب کیا جا رہا ہے۔ اگلے کاروباری روز انہیں فون پر اطلاع دی گئی کہ ان کی ملازمت ختم کر دی گئی ہے اور وہ ادارے کی تمام اشیا واپس کر دیں۔ اکرام راجہ کے مطابق انہوں نے جاب کیلئے بھیک مانگنے کے بجائے اسی وقت شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ سامان واپس کر دیں گے۔ اس پورے معاملے کا ایک اور افسوسناک پہلو ان کے مطابق صحافتی تنظیموں کی خاموشی ہے۔ ان کے مطابق ٹی وی چینلز مسلسل صحافیوں کو بلا وجہ نوکریوں سے فارغ کر رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ اکرام راجہ کے بقول ان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ طاقتوروں کو آئینہ دکھاتے ہیں۔
اکرام راجہ کا مؤقف ہے کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ ان کے مطابق اگر ان کے خلاف کوئی قابلِ گرفت جرم ہوتا تو انہیں رہا نہ کیا جاتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی رہائی اس بات کی دلیل ہے کہ ان پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ اس کے باوجود ان کے اپنے ادارے کی جانب سے ملازمت کا خاتمہ ان کے لیے نہ صرف معاشی بلکہ پیشہ ورانہ طور پر بھی ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا۔ اکرام راجہ کا کہنا ہے کہ وہ بے روزگاری اور دیگر معاشی مشکلات کا سامنا ضرور کر رہے ہیں، مگر اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کے مطابق صحافت میں ایسے آزمائشی حالات نئی بات نہیں ہیں۔ لیکن وہ سچ اور اپنے پیشہ ورانہ اصولوں پر قائم رہتے ہوئے اس مشکل وقت کا مقابلہ کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں