mulk mein sahafat ko jurm banadia gya 112

صحافیوں کا ایل ڈی اے سمیت متعلقہ بلدیاتی محکموں کی کارکردگی پر عدم اعتماد ۔۔

ایکشن کمیٹی برائے جرنلسٹس ہاؤسنگ اسکیم بلاک 68 کا کراچی پریس کلب کے سیکرٹری سے ملاقات میں ایل ڈی اے سمیت متعلقہ بلدیاتی محکموں کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار، سوال اٹھا دیا۔۔ تاخیری حربے اختیار کرکے معاملات کو ٹالنے کی افسر شاہی کی روش کب ختم ہوگی؟ ڈیمارکیش کے نام پر صحافیوں کو بے وقوف بنایا گیا۔۔ تفصیلات مطابق جرنلسٹس ہاؤسنگ اسکیم بلاک 68 کی ایکشن کمیٹی کے چار رکنی وفد نے کراچی پریس کلب کے سیکرٹری اسلم خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی، وفد میں اے کے محسن، نعیم کھوکھر، وحید قمر اور وصی قریشی شامل تھے، انہوں نے جرنلسٹس ہاؤسنگ اسکیم بلاک 68 کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔ وفد نے کہا کہ بلاک 68 سے متعلق محکموں کی کارکردگی پر الاٹیز میں تشویش پائی جاتی ہے، مزید کہا جن صحافیوں کو پزیشن لیٹر دیے جا چکے ہیں انہیں بھی اپنے پلاٹ کی لوکیشن کا علم نہیں ہے، ایل ڈی اے کی جانب سے ظاہر کی گئی ڈیمارکیشن محض دھوکا نکلی، ایکشن کمیں نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ افسر شاہی مسلسل تاخیری حربے اختیار کرکے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے، بیلیٹنگ کو 5 سال کا لمبا عرصہ گزر چکا ہے لیکن تاحال دھیلے کا ترقیاتی کام نہیں کیا گیا۔۔ اگر صحافیوں کی رہائشی اسکیم کے ساتھ ایل ڈی اے کا یہ رویہ ہے تو عام شہری کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہوگا۔۔ اس موقع پر سیکریٹری پریس کلب نے ایکشن کمیٹی کے اراکین کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ کراچی پریس کلب کی گورننگ باڈی ان معاملات کو مانیٹر کر رہی ہے اور فالو اپ بھی لے رہی ہے۔ امید ہے جلد تاخیر کا ازالہ ہوگا۔ قبل ازیں نجیب ٹیرس پر ایکشن کمیٹی کے فاؤنڈیشن اجلاس میں بلاک 68 کی تعمیر و ترقی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ اب جرنلسٹس ہاؤسنگ اسکیم بلاک 68 کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور اپنے حقوق کے حصول و تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں