217

سینئر رپورٹر کی ریکی، جان سے مارنے کی دھمکیاں۔۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) نے سینئر کرائم رپورٹر اور تنظیم کے رکن طاہر عباسی کو مبینہ طور پر لیاری گینگ وار سے وابستہ عناصر کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیوں اور ان کے گھر کی ریکی کیے جانے کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔کے یو جے دستور کے صدر نصراللہ چوہدری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ طاہر عباسی ایک ذمہ دار اور پیشہ ور صحافی ہیں جو عرصہ دراز سے کرائم رپورٹنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کے گھر کی نگرانی، ریکی اور جان سے مارنے کی دھمکیاں نہ صرف ایک صحافی بلکہ آزادیٔ صحافت پر بھی براہِ راست حملہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو خوف و ہراس کا شکار بنا کر ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں صحافی برادری پہلے ہی مختلف خطرات اور دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں ایک صحافی اور اس کے اہل خانہ کو دھمکیاں ملنا انتہائی تشویشناک امر ہے جس کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے۔کے یو جے دستور کے سیکریٹری ریحان خان چشتی نے کہا کہ غیر ملکی نمبروں سے طاہر عباسی اور ان کے اہل خانہ کو مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جو ایک سنگین معاملہ ہے۔ انہوں نے آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں، ملوث عناصر کو گرفتار کریں اور طاہر عباسی سمیت ان کے اہل خانہ کو مؤثر سیکیورٹی فراہم کریں۔ریحان خان چشتی نے کہا کہ کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) اپنے ساتھی طاہر عباسی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور صحافیوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔کے یو جے دستور نے خبردار کیا ہے کہ اگر متعلقہ اداروں نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہ لیا اور کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی مکمل ذمہ داری انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد ہوگی۔ دریں اثنا ورکنگ جرنلسٹس فورم نے سینئر کرائم رپورٹر طاہر عباسی کو مبینہ طور پر لیاری گینگ وار سے وابستہ عناصر کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیوں اور ان کے گھر کی ریکی کیے جانے کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ورکنگ جرنلسٹس فورم کے بانی و مرکزی صدر میاں خرم شہزاد، سیکریٹری جنرل ساجد احمد اور چیف آرگنائزر عامر رضا نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ طاہر عباسی ایک ذمہ دار، نڈر اور پیشہ ور صحافی ہیں جو طویل عرصے سے کرائم رپورٹنگ کے شعبے میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے گھر کی نگرانی، ریکی اور جان سے مارنے کی دھمکیاں نہ صرف ایک فردِ واحد بلکہ مجموعی طور پر آزادیٔ صحافت اور اظہارِ رائے پر حملے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو خوفزدہ کرکے ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے کی ہر کوشش ناقابل قبول ہے۔ اطلاعات کے مطابق غیر ملکی نمبروں سے طاہر عباسی اور ان کے اہل خانہ کو مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جو انتہائی سنگین اور تشویشناک صورتحال ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان، بالخصوص کراچی میں صحافی برادری پہلے ہی مختلف نوعیت کے خطرات اور دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں کسی صحافی اور اس کے اہل خانہ کو نشانہ بنانا اور انہیں دھمکیاں دینا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، جس کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے۔ ورکنگ جرنلسٹس فورم نے وزیراعلیٰ سندھ، وزیر داخلہ سندھ، آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی ساؤتھ اور دیگر متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور طاہر عباسی سمیت ان کے اہل خانہ کو مؤثر سیکیورٹی اور مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ورکنگ جرنلسٹس فورم طاہر عباسی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور صحافیوں کے جان و مال کے تحفظ، آزادیٔ صحافت اور صحافی برادری کے حقوق کے لیے ہر سطح پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں