225

ایک نیوز میں برطرفیاں، عطاتارڑ نوٹس لیں، کے یوجے۔۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر طاہر حسن خان اور جنرل سیکرٹری سردار لیاقت اور اراکین مجلسِ عاملہ نے ایک نیوز میں صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کی جبری برطرفیوں اور ملازمتوں کے عدم تحفظ پر گہری تشویش اور شدید مذمت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔۔۔ کے یوجے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر کے صحافی اور میڈیا ورکرز پہلے ہی مہنگائی، معاشی دباؤ اور پیشہ ورانہ غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں میڈیا اداروں کی جانب سے ملازمین کو بلاجواز اور یکطرفہ طور پر برطرف کرنا نہ صرف مزدور اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ صحافتی آزادی اور پیشہ ورانہ وقار پر بھی براہِ راست حملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران سرکاری اور نجی شعبے کے اشتہارات کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس سے میڈیا اداروں کی آمدن اور منافع میں بھی اضافہ ہوا، لیکن المیہ یہ ہے کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی تنخواہوں میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کی شرح سے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس اب اخراجات میں کمی کے نام پر جبری برطرفیوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے جو ناقابلِ قبول اور قابلِ مذمت ہے۔۔ کے یوجے ایسے تمام اقدامات کو مسترد کرتی ہے جو کارکنوں کے روزگار، عزتِ نفس اور پیشہ ورانہ مستقبل کو خطرے میں ڈالے۔انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے برطرف صحافیوں، میڈیا ورکرز کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔ ایک نیوز میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور تاخیر سے تنخواہیں دینا بھی معمول بن چکا ہے۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس نے میڈیا ہاؤسز میں لیبر قوانین اور ویج بورڈ ایوارڈ پر مکمل عملدرآمد کرانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں