کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) نے ایک نیوز میں صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کی جبری برطرفیوں اور ملازمتوں کے عدم تحفظ پر گہری تشویش اور شدید مذمت کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ میڈیا ورکرز کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔کے یو جے دستور کے صدر نصراللہ چوہدری، سیکرٹری ریحان خان چشتی اور مجلسِ عاملہ نے کہا ہے کہ ملک بھر کے صحافی اور میڈیا کارکن پہلے ہی مہنگائی، معاشی دباؤ اور پیشہ ورانہ غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں میڈیا اداروں کی جانب سے ملازمین کو بلاجواز اور یکطرفہ طور پر برطرف کرنا نہ صرف مزدور اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ صحافتی آزادی اور پیشہ ورانہ وقار پر بھی براہِ راست حملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران سرکاری اور نجی شعبے کے اشتہارات کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس سے میڈیا اداروں کی آمدن اور منافع میں بھی اضافہ ہوا، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس اب اخراجات میں کمی کے نام پر جبری برطرفیوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے جو ناقابلِ قبول اور قابلِ مذمت ہے۔کے یو جے دستور نے کہا کہ پسند و ناپسند کی بنیاد پر ملازمین کو فارغ کرنا اور دوسری جانب نئی بھرتیاں کرنا انتظامی ناانصافی اور امتیازی رویے کی واضح مثال ہے۔ کے یوجے دستور ایسے تمام اقدامات کو مسترد کرتی ہے جو کارکنوں کے روزگار، عزتِ نفس اور پیشہ ورانہ مستقبل کو خطرے میں ڈالے۔انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ انتظامیہ اور فریقین سے مذاکرات کرائیں اور متاثرہ میڈیا کارکنوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔
کے یو جے دستور نے مطالبہ کیا کہ:
* جبری طور پر برطرف کیے گئے تمام صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔
* تنخواہوں اور واجبات کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔
* میڈیا ورکرز کے روزگار اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔
* میڈیا اداروں میں لیبر قوانین اور ویج بورڈ ایوارڈ پر مکمل عملدرآمد کرایا جائے۔
کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) نے خبردار کیاکہ اگر متاثرہ کارکنوں کے مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو صحافتی تنظیمیں اور میڈیا ورکرز مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے بھرپور احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ انتظامیہ اور حکومتی اداروں پر عائد ہوگی۔
409