حیدرآباد سے فیصل آباد جاتے ہوئے بس سے مبینہ طورپر سادہ لباس اہلکاروں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے 13سالہ نواسے اور نانی کا ڈھائی ماہ بعد بھی کوئی سراغ نہ مل سکا ‘سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود نوابشاہ اور حیدرآباد پولیس میرپورخاص سے تعلق رکھنے والے صحافی فلک شیر کے بیٹے اور ساس کا کوئی سراغ نہ لگاسکی۔ تفصیلات کے مطابق میرپورخاص کے صحافی فلک شیر کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ بینچ میں دائر کی گئی درخواست میں کہاگیاہے کہ 14مارچ کی رات اس کا 13سالہ بیٹا علی شیر اوراس کی بزرگ ساس حیدرآباد سے عیدالطفر کی چھٹیاں منانے پنجاب جانے والی مسافر کوچ سے فیصل آباد جارہے تھے کہ سکرنڈ کے قریب نوابشاہ پل پر پولیس موبائلوں میں سوار اہلکاروں اور سادہ لباس افراد نے جس کی قیادت انسپکٹر سعید نامی افسر کررہاتھا کوچ کو روکا اور تلاش کے دوران بزرگ ساس اور 13سالہ بیٹے کو زبردستی پوچھ گچھ کے نام پر اتارکر اپنے ہمراہ لے گئے ‘جس کے بعد سے 76روز گذرنے کے باوجود دونوں لاپتہ ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ حیدرآبادسرکٹ بینچ میں 6مئی کوسماعت کے دوران ایس ایس پی نوابشاہ نے 13سالہ علی شیر اورساس نسیم اختر کو حراست میں لئے جانے اور لاپتہ کئے جانے کااعتراف بھی کیاتھا اورتفتیشی عمل کی تفصیلات بھی عدالت میں پیش کی تھیں۔دوسری جانب میرپورخاص کے صحافی نے اپنی سوشل میڈیا وال پر ایک تحریر میں لکھا ہے کہ ۔۔میرا نام فلک شیر ولد غلام علی ہے میں میرپورخاص سندھ کا رہائشی ہوں میں صحافت کے شعبے سے وابستہ ہوں اور نیوز ون چینل کا رپورٹر رہا ہوں۔ میرے چار بچے (دو بیٹے اور دو بیٹیاں) ہیں میری زوجہ سرکاری ٹیچر ہیں۔ میں نے میرپورخاص میں ہمیشہ اپنی رپورٹنگ اور عملی جدوجہد سے اپنے ملک اور سلامتی کے اداروں کے عزت وقار کے لیے کام کیا ہے میری فیس بک آئی ڈی میری تمام رپورٹنگ اور عملی کوششوں کی بہترین عکاس ہے مجھے رواں سال کے شروع سے ہی مسلسل انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔۔ مجھے زبردستی مقدمات میں شامل کرایا گیا اور مجھ پر جھوٹے مقدمات بھی درج کروائے گئے میرے ہی ساتھ کام کرنے والے صحافی دوستوں کو گرفتار کرکے میرے خلاف بیان دلواکر سوشل میڈیا پر چلوائے گئے منفی میڈیا پروپیگنڈے سے تذلیل کروائی گئی 28 جنوری سے مجھے مجبوراً روپوش ہونا پڑا جوکہ تاحال میں روپوش ہی ہوں چار فروری سے میرے بیوی بچوں کو بھی اپنا گھر چھوڑنا پڑا اور وہ پنجاب چلے گئے 12 مارچ کو میری ساس میرے بیٹے علی شیر کو لینے فیصل آباد سے قراقرم ٹرین میں حیدرآباد کے لیے روانہ ہوئی میرا بیٹا علی شیر ایس ایس ٹی پبلک اسکول راشد آباد ٹنڈوالہیار میں پڑھتا ہے اور عیدالفطر کی چھٹی پر نانی لینے جارہی تھی 14 مارچ کو میری ساس نے علی شیر کو تقریباً شام پانچ بجے اسکول سے لیا اور واپس چنیوٹ جانے کے لیے وڑائچ مسافر سیلپر کوچ میں ایوب ہوٹل اڈے سے حیدرآباد سے فیصل آباد کے ٹکٹ پر رات ساڑھے دس بجے کوچ سے روانہ ہوئیں اور رات گیارہ ساڑھے گیارہ بجے تک واٹس اپ پر ویڈیو اور آڈیو کال کے ذریعے ہم سے بات بھی ہوتی رہی تاہم صبح سویرے دونوں نمبر مسلسل بند ہونے پر میں نے ٹکٹ پر دیے گئے وڑائچ کوچ اڈے کے نمبر پر کال کی پھر کراچی اڈے پر کال کی ڈرائیور کا نمبر لیا اور اس سے پوچھا کہ ہماری سواریوں کا نمبر مسلسل بند جارہا ہے تو ڈرائیور نے بتایا کہ بوڑھی ماں اور کمسن بچے کو رات ایک بجے نوابشاہ پل سے پچاس میٹر پہلے پولیس انسپکٹر سعید دیگر پولیس اہلکاروں کیساتھ اتار کر پولیس ڈالے میں لے گیا تھا جس پر میرے سالے رضا حسنین نے آئی جی سندھ، وزارت داخلہ سندھ اور چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سمیت حساس اداروں کو بھی درخواست دیں اور ہائیکورٹ میں مسنگ پرسن کی پٹیشن فائل کی جس کی گذشتہ 6 مئی کو ہونیوالے سماعت میں ایس ایس پی حیدرآباد نے عدالت میں اپنی رپورٹ پیش کی اور اعتراف کیا کہ نوابشاہ پولیس نے بزرگ خاتون اور کمسن بچے کو جبری لاپتہ کیا ہے ہائیکورٹ کی اگلی تاریخ 9 جون ہے۔
227
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل