کوئٹہ میں سینئر صحافی نصیر احمد کاکڑ پر تشدد، مقدمہ درج 27

کوئٹہ میں سینئر صحافی نصیر احمد کاکڑ پر تشدد، مقدمہ درج

سینئر صحافی اور یو این اے کے بیورو چیف نصیر احمد کاکڑ پر مبینہ تشدد اور دھمکیاں دینے کے واقعے پر کوئٹہ پولیس نے تھانہ گوالمنڈی میں ملزم باری کاکڑ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایات پر اعلیٰ پولیس حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔واقعے سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق نصیر احمد کاکڑ کو چار دیگر افراد کے ہمراہ ایک گھریلو تنازع کے تصفیے اور ثالثی کے لیے بلایا گیا تھا۔ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس اور کوئٹہ پریس کلب کے مشترکہ بیان کے مطابق صحافی اور ان کے ساتھی جب معاملہ حل کرانے کے لیے وہاں پہنچے تو باری کاکڑ اور دیگر افراد کی جانب سے مبینہ طور پر ثالثی کرنے والے افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ نصیر احمد کاکڑ سمیت دیگر افراد کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔واقعے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (بی یو جے) اور کوئٹہ پریس کلب نے صحافی پر مبینہ تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولیس اور متعلقہ حکام سے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ صحافتی تنظیموں نے کہا کہ صحافیوں کے خلاف تشدد اور دھمکیوں کے واقعات قابلِ تشویش ہیں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔پولیس کارروائی سے متعلق سامنے آنے والی معلومات کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو کارروائی کی ہدایت کی، جس کے بعد ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ عمران شوکت اور ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ ضیاء الحق مندوخیل نے معاملے پر فوری کارروائی کی۔وزیراعلیٰ بلوچستان کے احکامات کے بعد وزیراعلیٰ کے اسٹاف آفیسر سید امین نے بھی پولیس حکام اور متاثرہ صحافی نصیر احمد کاکڑ سے رابطہ کیا اور واقعے سے متعلق معلومات حاصل کیں۔بعد ازاں کوئٹہ پولیس نے باری کاکڑ کے خلاف تھانہ گوالمنڈی میں مقدمہ درج کرکے معاملے کی تحقیقات شروع کردیں۔ مقدمہ درج ہونے کا مطلب الزامات کا ثابت ہونا نہیں اور واقعے میں نامزد شخص کو قانون کے تحت عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک ملزم تصور کیا جائے گا۔واقعے پر صحافتی برادری کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ بی یو جے اور کوئٹہ پریس کلب نے اپنے مشترکہ بیان میں پولیس سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف بلا تاخیر کارروائی کی جائے اور صحافی نصیر احمد کاکڑ سمیت دیگر متاثرین کو تحفظ فراہم کیا جائے۔واضح رہے کہ بلوچستان میں صحافتی تنظیمیں اس سے قبل بھی صحافیوں کے تحفظ اور پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران انہیں درپیش خطرات کا معاملہ اٹھاتی رہی ہیں۔ صوبائی حکومت بھی صحافیوں کے تحفظ اور مسائل کے حل کے لیے تعاون جاری رکھنے کا مؤقف اختیار کرتی رہی ہے۔پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کردی ہیں، تاہم مقدمے کی دفعات اور واقعے میں دیگر افراد کی ممکنہ نامزدگی سے متعلق مکمل تفصیلات تاحال عوامی طور پر سامنے نہیں آئیں۔ دریں اثنا بلوچستان میڈیا فورم نے سینئر صحافی و یو این اے کے بیوروچیف نصیر احمد کاکڑ پر تشدد کے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ فورم کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شہری کو قانون ہاتھ میں لے کر تشدد یا تذلیل کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ بلوچستان میڈیا فورم نے کہا کہ قبائلی نظام کے نام پر ذاتی عدالتیں قائم کرنا اور اپنی منشا کے مطابق لوگوں کے فیصلے کرنا ریاستی قانون اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ جو عناصر خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہوئے اپنی عدالتیں لگاتے، لوگوں کی تذلیل کرتے اور تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، ان کا محاسبہ نہایت ضروری ہے۔کسی فرد یا گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے کسی شہری کو مجرم قرار دے کر سزا دینا شروع کردے۔ نصیر احمد کاکڑ کو بھی اسی غیر قانونی اور نام نہاد ذاتی عدالت کا نشانہ بنایا گیا، جس کی کسی مہذب اور قانونی معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ صحافی عوامی مسائل، ناانصافیوں اور مظلوم طبقات کی آواز ایوانِ اقتدار تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ صحافیوں کو تشدد اور دھمکیوں کا نشانہ بنانا آزادیٔ صحافت اور عوام کے حقِ اظہار پر اثرانداز ہونے کے مترادف ہے۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ صحافیوں کو محفوظ ماحول فراہم کرے تاکہ وہ بلاخوف اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرسکیں۔بلوچستان میڈیا فورم نے مطالبہ کیا کہ نصیر احمد کاکڑ پر تشدد کے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ملوث افراد کو بلا تاخیر گرفتار کیا جائے، شفاف تحقیقات کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ صحافی کو مکمل قانونی و حفاظتی معاونت فراہم کی جائے۔ فورم نے واضح کیا کہ قانون کی بالادستی کے خلاف کسی بھی شکل میں قائم ذاتی عدالتیں معاشرے میں مزید ناانصافی اور خوف کو جنم دیتی ہیں، اس لیے ایسے رجحانات کا خاتمہ ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں