صحافی پر تشدد، بوڑھی والدہ کے خلاف مقدمہ درج۔۔۔ 7

صحافی پر تشدد، بوڑھی والدہ کے خلاف مقدمہ درج۔۔۔

پنجاب یونین آف جرنلسٹس نے شکر گڑھ کے صحافی شاید اقبال پر مسلح ملزموں کی جانب سے بہیمانہ تشدد اور شکر گڑھ پولیس کی جانب سے ان کی بوڑھی والدہ کے خلاف کراس ورشن میں جھوٹے مقدمے کے اندراج پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس حکام سے شاہد اقبال کو تحفظ دینے اور ان کی والدہ کے خلاف مقدمہ کو خارج کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ پی یوجے کے صدر نعیم حنیف ، جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی، سینئر نائب خرم پاشا ، نائب صدر شیر علی خالطی ، جوائنٹ سیکرٹری خالد رشید، خزانچی جواد حسن گل اور ایگزیکٹو کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملزمان نے شاہد اقبال کو نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ شکرگڑھ پولیس نے الٹا ان کی والدہ کے خلاف بھی جھوٹا مقدمہ درج کرلیا۔ پی یوجے کے صدر نعیم حنیف نے ڈی پی او نارووال اور اعلی پولیس حکام سے اس واقعہ کی شفاف تحقیقات کرنے اور ملزمان کے خلاف کارروائی پر زور دیا ہے ۔ پی یوجے کے جنرل سیکرٹری قمرالزمان نے کہا یہ بنیادی طور پر ایک صحافی کو خبر دینے سے روکنے کی کوشش ہے ۔ شاہد اقبال شکر گڑھ کے علاقے میں روزنامہ دنیا کے رپورٹر ہیں ۔ جنہوں نے قبضہ گروپ کی جانب سے ویلفئیر سوسائٹی کی جگہ پر مبینہ طور پر قبضہ کرنے کی کوشش کی فوٹیج بنائی تو انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ملزمان نے فائرنگ بھی کی۔ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے صحافی کا تعاقب کرتے ہوئے اس کے گھر میں داخل ہوکر بھی تشدد کیا، جس کے نتیجے میں چادر چار دیواری کا تقدس پامال ہوا۔ایگزیکٹو کونسل نے پولیس حکام سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ صحافی پر حملہ نہ صرف انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے بلکہ آزادی صحافت اور صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی ایک سنجیدہ سوال ہے۔ صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران کسی بھی قسم کے دباؤ، دھمکی یا تشدد کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ایگزیکٹو کونسل نےشکرگڑھ پولیس کی جانب سے تین ملزمان کی گرفتاری کا خیر مقدم کرتے ہوئےواقعے میں ملوث تمام ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کرنے اور مقدمے میں دفعہ 452شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں