ڈس انفارمیشن کا مقابلہ صرف ردعمل سے نہیں کیاجاسکتا، عظمی بخاری۔۔۔۔ 11

ڈس انفارمیشن کا مقابلہ صرف ردعمل سے نہیں کیاجاسکتا، عظمی بخاری۔۔۔۔

وزیراطلاعات وثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری کی زیر صدارت انفارمیشن اسٹیئرنگ/ریویو کمیٹی کا چوتھا اجلاس ہوا، جس میں پنجاب میں نظرثانی شدہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد، پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری اطلاعات پنجاب سید طاہر رضا ہمدانی اور متعلقہ محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ سیکرٹری اطلاعات نے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں ہونے والی پیش رفت اور مختلف اقدامات پر بریفنگ دی۔ اجلاس کو محکمہ جاتی رابطہ کاری، ذمہ دارانہ معلومات کی فراہمی اور گمراہ کن بیانیوں کے بروقت تدارک کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا، جبکہ ڈس انفارمیشن، نفرت انگیز مواد، منفی پروپیگنڈے اور ریاست مخالف بیانیے کے تدارک کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ڈس انفارمیشن اور منفی بیانیوں کا مقابلہ محض ردعمل کی بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا، اس کے لیے بروقت، حقائق پر مبنی، مربوط اور فعال حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں۔ نیشنل ایکشن پلان کے مقاصد کے حصول کے لیے محکمہ اطلاعات و ثقافت نے مؤثر اور متحرک کردار ادا کیا ہے، جبکہ معرکۂ حق کے دوران پاکستان کی کامیابیوں اور قومی بیانیے کو بھی مؤثر انداز میں اجاگر کیا جائے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گمراہ کن اور منفی مواد کے باعث نوجوان اور طلباء خصوصی طور پر متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے ان میں میڈیا لٹریسی اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رویوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ تعلیمی اداروں میں سکول کونسلنگ اور دیگر متعلقہ فورمز کو مؤثر طور پر شامل کیا جائے اور طلباء کی آگاہی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ طلباء کو سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال، جعلی اور گمراہ کن معلومات کی شناخت اور حقائق کی جانچ کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جائے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ طلباء میں تنقیدی سوچ اور میڈیا لٹریسی کی صلاحیتیں پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ وہ مستند اور تصدیق شدہ معلومات اور جعلی و من گھڑت مواد میں فرق کر سکیں۔ تعلیمی ادارے سماجی ہم آہنگی، رواداری اور مثبت قومی بیانیے کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے ڈس انفارمیشن، نفرت انگیز تقاریر اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے تدارک کے لیے اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کریں گے اور اس مقصد کے لیے باہمی رابطہ کاری اور مشترکہ حکمت عملی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں