وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ خان کی لاہور میں سنئیر صحافیوں سے ملاقات کی ہے جس دوران صوبوں کی تقسیم پر تبادلۂ خیال کیاگیا۔ تفصیل کے مطابق سنئیر صحافی مجیب الرحمان شامی کی رہائش گاہ پر رانا ثناءاللہ خان مشیر وزیراعظم ،چیف وہب پنجاب اسمبلی رانا ارشد، لیگی رہنماؤں زبیر گل ،رانا عمران ،غلام مصطفیٰ اور ڈاکٹر سعید الہٰی کی آمد ہوئی ہے جس دوران سنئیر صحافیوں سہیل وڑائچ، سلیم بخاری، حفیظ اللہ نیازی، نوید چوہدری، پرویز بشیر ،منصور علی خان ،سلمان غنی، نجم ولی ، محمد عثمان، محمد عاصم نصیر،احمد بلال محبوب، سلمان حسن ، اظہر جاوید، نوشاد علی،یاسر شامی، گوہر بٹ،عمر اسلم ،حسین پراچہ،عثمان شامی سمیت دیگر کی رانا ثناءاللہ خان کے ساتھ صوبوں کی تقسیم پرمشاورتی بیٹھک میں ملاقات ہوئی ہے۔ اس موقع پر رانا ثناء اللہ کاکہنا تھاکہ آپ کیا سمجھتے ہیں نئے صوبوں کے پراجیکٹ پر کیا مبینہ پراجیکٹ بنانے والوں نے مسلم لیگ (ن) سے گفتگو نہیں کی ہو گی ؟ سوال یہ ہےکہ (ن) لیگ باقاعدہ ڈیبیٹ کا آغاز نہیں کرتی اور اس پراجیکٹ کو اکنامک فورم میں کیوں شروع کیا گیا؟اکنامک فورم تو ایسا فورم نہیں ہے کہ وہاں ایسے پراجیکٹ شروع کیے جائیں۔جن کا مبینہ پراجیکٹ ہے۔ انہوں نے اگر (ن) لیگ سے بات کی اور ہم نے اسکو انٹروڈیوس نہیں کروایا تو یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم لٹھ لے کر کھڑےہو جائیں۔ ابھی صوبوں کی تقسیم پر بہت وقت ہےجب یہ پارلیمنٹ میں آئے گا۔ ہر کوئی اپنی رائے دے گا، پھر یہ پارلیمانی یا سٹینڈنگ کمیٹی میں جائے گاجس طرح 18ویں ترمیم پر کمیٹی بنی تھی، اب بھی اگر پارلیمنٹ میں آتا ہے تو صوبو ں کے معاملے پر 6 سے 8 ماہ لگتے نظر آتے ہیں اس میں سے انتظامی یونٹس نکلتے ہیں، یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ آتا ہے، یا کچھ نہیں نکلتا کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبوں کے معاملے پر پی پی کو فائدہ ہوا ہے انکا کارکن جذباتی ہو کر انکے ساتھ کھڑا ہو گیا ہے کینال پراجیکٹ پر صدر زرداری نے بنانے کی حمایت کی مگر عوامی احتجاج کروا کر انہوں نے کینال پراجیکٹ بند کروا دیا ، بانی کے ساتھ پس پردہ گفتگو ہو رہی ہو گی تاہم اسکو اپنانے کی ایک قیمت ہے جو اس کو اپنائے گا اسکو وہ قیمت چکانا پڑی گی۔انہوں نے بتایاکہ تحریک انصاف مسلح ہو کر اسلام آباد آنے کی تیاری کررہی ہے ،دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ فتنہ الخوارج ہندوستان کے سپانسرڈ تحریک انصاف کی ریلی کو ٹارگٹ بنا کر حکومت اور عوام میں مزید دوری پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، تحریک انصاف کا احتجاج ٹکے ٹوکری ہو جائے گا۔ پنجاب میں صوبوں کے حوالے سے (ن )لیگ کی مقامی قیادت بہاولپور کوجنوبی پنجاب کے ساتھ نہیں لےجانا چاہتے۔ یا تو وہ الگ صوبہ بنانے کے حق میں ہیں یا لاہور کے ساتھ ہیں ،(ن) لیگ کی جانب سے صوبوں کی تقسیم کے حق میں کوئی بڑی بات سامنے نہیں آئی۔ (ن )لیگ نے جب یہ پراجیکٹ شروع نہیں کیا تو آپ سمجھ جائیں ہماری کیا لائن ہے۔ا ن کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر داخلہ جب کابینہ یا سینیٹ میں بات کرے گا تو اس سے جواب لے لیں گے۔وفاقی وزیر شیخ قیصر میرے سامنے ہر دوسرے دن شہباز شریف سے ملتے ہیں اب انکے اعتراضات یا ملاقات نہ ہونے کی مجھے سمجھ نہیں آ رہی۔ کچھ چیزیں غور و خوض کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ ہر چیز پبلک نہیں کرنی چاہیے۔
22
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل