سوشل میڈیا پر غلیظ بزنس ماڈل 6

سوشل میڈیا پر غلیظ بزنس ماڈل

تحریر: نوید شیخ۔۔۔
آج میں جو منظر نامہ آپ کو دکھانے جا رہا ہوں وہ اس قدر شرمناک ہے کہ میری طرح یقیناً آپ بھی سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے ۔آپ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ آخر ہم کس طرف جا رہے ہیں؟
۔ پچھلے دنوں میں نے ایک ٹک ٹاک لائیو دیکھی۔سامنے ایک خاتون تھی اور دوسری طرف سینکڑوں لوگ۔ اسکرین پر ایک گفٹ آتا تھا ۔ایک مطالبہ کیا جاتا تھا کہ سر سے دوپٹہ اتارو تو یہ گفٹ ملے گا۔پھر دوسرا گفٹ آیا ۔مطالبہ مزید شرمناک ہو گیا۔ پھر تیسرا گفٹ اور مطالبہ مزید واہیات۔۔۔میں نے جب یہ مناظر دیکھے تو میرے رونگھٹے کھڑے ہو گئے ۔ پہلے تو مجھے یقین ہی نہیں آیا کہ یہ سب کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے ۔ لیکن جب میں نے تصدیق کی تو پتا چلا کہ یہاں ایک نہیں، سینکڑوں نہیں۔بلکہ ہزاروں ایسی ڈیجیٹل دکانیں کھلی ہیں۔ جہاں عورت کا جسم ایک انٹرٹینمنٹ ہے۔ جہاں بے حیائی کونٹینٹ کے طور پر بک رہی ہے ۔ اور اس کونٹینٹ کی قیمت گفٹ کی صورت میں ملتی ہے ۔ میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ کیا ہم نے اب عزت کی قیمت بھی لگانا شروع کر دی ہے؟۔یہ لوگ اتنے بے خوف کیوں ہیں؟۔کیا انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ؟۔قانون ،ادارے ،حکومت ،والدین،سوسائٹی۔۔۔انہیں کسی کا ڈر خوف نہیں۔یا پھر انہیں اس بات کا یقین دلا دیا گیا ہے کہ آپ جو جی میں آئے کرو۔ کوئی آپ کو نہیں روکے گا۔
۔ ایسی متعدد لائیو ویڈیوز کی ریکارڈنگز فیس بک اور یوٹیوب میں سامنے آتی رہتی ہیں۔ جن کو دیکھنے کے بعد ایک بات واضح ہوتی ہے۔ کہ یہ محض ایک اتفاق نہیں ۔آپ کو اس کھیل میں ایک مخصوص پیٹرن دکھائی دیتا ہے ۔پہلے لائیو شروع ہوتی ہے۔ پھر ویور جمع ہوتے ہیں۔ پھر گفٹس آتے ہیں۔ پھر مطالبے شروع ہوتے ہیں۔ اور پھر ہر مطالبہ پورا ہونے پر گفٹس کی قیمت بڑھتی چلی جاتی ہے۔یعنی ایک ایسا گھن چکر جس میں آپ جتنی بڑی حد پار کرو، جتنا جسم دکھائو۔ جتنی بے حیائی کا مظاہرہ کرو۔ اتناہی بڑا انعام آپ کو ملے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بے حیائی صرف بے حیائی نہیں رہتی۔ بلکہ یہ مونوٹائزیشن بن جاتی ہے ۔ اس مونوٹائزیشن کی قیمت لگنا شروع ہو جاتی ہے ۔ اور پھر اسے انسینٹو ملنے لگتے ہیں۔
ٹک ٹاک لائیو کے اس گھن چکر کو سمجھنے سے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ آخر یہ گفٹ سسٹم ہے کیا؟ یہ بنیادی طور پر ایک مونوٹائزیشن میکنزم ہے ۔ صارف پہلے کوائنز خریدتا ہے ۔ پھر ان کوائنز کو ورچوئل گفٹس کی صورت میں کنٹینٹ کرئیٹرز کو بھجوایا جاتا ہے ۔ بنیادی طور پر یہ نظام بذات خود کوئی فحش نظام نہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے اس سسٹم کو فحاشی کی پرموشن اور اپنی جیبیں بھرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ لوگ اپنی کزنز اور بیویوں کے ساتھ اس لائیو شو میں شریک ہوتے ہیں۔آپ گفٹ پھینکو اور کوئی بھی مطالبہ رکھ دو۔یقین مانیں کہ میں نے اس قدر شرمناک مناظر دیکھے ہیں کہ انہیں دوبارہ دیکھنے کی ہمت نہیں پڑی اور نہ ہی وہ باتیں بیان کرنے کے قابل ہیں ۔ایسے ایسے بے ہودہ مطالبات کئے جاتے ہیں کہ انسانیت بھی شرما جائے ۔آپ یوں سمجھ لیں۔ عزت کی سرعام نیلامی ہے ۔جہاں کوئی رکھ رکھائو۔کوئی بھید بھائو نہیں۔کوئی شرم وحیا۔کوئی وقار نہیں۔ بالکل ایک بازار کی طرح سودا کیا جاتا ہے۔اور انسانیت کو چند ٹکوں کی خاطر سرعام نیلام کیا جاتا ہے ۔
۔سوال یہ ہے کہ لوگ ٹک ٹاک لائیو پر یہ سب کچھ کرتے کیوں ہیں؟۔ کیا شہرت کیلئے ؟؟؟ پیسوں کیلئے ؟؟؟یا صرف ویوز حاصل کرنے کیلئے ؟؟؟
۔ زیادہ تر لوگ توجہ حاصل کرنے کیلئے اس شرمناک کھیل میں شامل ہوتے ہیں۔ کیونکہ جتنی زیادہ توجہ ملے گی اتنی زیادہ شہرت ملے گی ۔ اتنے زیادہ ویوز آئیں گے ۔ جب ویوز آئیں گے تو پھر گفٹ بھی زیادہ ملیں گے ۔ اور زیادہ گفٹس کا مطلب ہے زیادہ آمدنی ۔ یعنی یہ ایک پورا خطرناک چکر ہے ۔ بطور معاشرہ فحاشی کے اس پھیلائو کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ کیونکہ جب ہم کوئی ایسی ویڈیو دیکھتے ہیں۔ اسے لائیک کرتے ہیں۔ پھر شیئر کرتے ہیں۔ ساتھ میں نیچے کمنٹ بھی کر دیتے ہیں۔ تو اس عمل سے دراصل ہم کونٹینٹ کرئیٹرز کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔اور یوں ہم نہ چاہتے ہوئے بھی اس غلیظ دھندے کا حصہ بن جاتے ہیں۔
میں ایک بات واضح کر دوں۔ اس گھنائونے کھیل میں اصل مجرم ٹک ٹاک لائیو نہیں۔ ہر کونٹینٹ کرئیٹر فحش مواد بھی نہیں بناتا۔ ہر گفٹ بھیجنے والا بھی مجرم نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک شخص گفٹ کا لالچ دے کر دوسرے کو نامناسب،غیرقانونی ،غیراخلاتی اور بے ہودہ حرکات کرنے پر اکساتا ہے ۔ اپنے اس عمل سے مالی فائدہ حاصل کرتا ہے۔یا اس پورے عمل کو منظم کرتا ہے۔ پھر یہ معاملہ انٹرٹینمنٹ کا نہیں رہتا۔ بلکہ یہاں سے ریاست کی ذمہ داری شروع ہو جاتی ہے ۔حکومت سے میرا سوال بہت سادہ ہے۔ کیا ٹک ٹاک لائیو پر ایسے اکاؤنٹس کی نشاندہی نہیں ہو سکتی جو غیراخلاقی حرکتوں میں ملوث ہیں؟۔ کیا بار بار رپورٹ کئے جانے والے اکائونٹس کو ٹریک نہیں کیا جا سکتا؟؟؟جو لوگ اندھا دھند گفٹنگ کر رہے ہیں۔ کیا ان کے سورس آف انکم کی تحقیقات نہیں ہونی چاہئے ؟؟؟۔ نوجوان نسل کا اخلاق اور کردار برباد کرنے والوں کو انجام تک پہنچانے کی کوئی کوشش نہیں ہونی چاہئے؟؟پاکستان میں سائبر کرائمز کے خلاف متعلقہ ادارے موجود ہیں۔قوانین موجود ہیں۔ ریگولیٹر ی میکنزم موجود ہے ۔پنجاب میں تو ماشااللہ سے سی سی ڈی بھی موجود ہے جو سرعام فحش کرنے والے کی ٹانگیں تک توڑ دیتی ہے ۔ تو پھر ان تمام اداروں کی عین ناک تلے فحاشی کا یہ گھنائونا کھیل کیوں جاری ہے ؟
میرا تعلق میڈیا سے ہے ۔ لیکن اس کے باوجود میں جب میں دوستوں کے ساتھ بیٹھتا ہوں تو اکثر یہ بات ہوتی ہے کہ پہلے لوگ بدنامی سے ڈرتے تھے ۔ لیکن اب ویوز کیلئے اپنی عزت کو دائو پر لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ میرے اکثر دوستوں کا خیال ہے کہ سوشل میڈیا نے ماحول خراب کر دیا۔نوجوان نسل خراب ہو رہی ہے۔بچے ہر وقت موبائل پر لگے رہتے ہیں۔ لیکن میرا موقف یہ ہے کہ اس صورتحال کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ ہم خود ہیں۔ مجھے ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ ہم نے اپنی نوجوان نسل کو دیا کیا ہے ؟؟؟۔ ایک موبائل، انٹرنیٹ تک ان لمیٹیڈ رسائی ۔ اور پھر ہم نوجوان نسل سے کہتے ہیں کہ خود ہی سنبھل جاؤ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ کافی ہے؟۔میرے خیال میں والدین کو بھی ذمہ داری لینا ہوگی۔ ہمیں اپنے بچوں کو ڈیجیٹل لٹریسی دینا ہو گی ۔ انہیں سمجھانا ہوگا کہ ہر وائرل چیز تقلید کے قابل نہیں ہوتی ۔ ان کے سامنے یہ بات ثابت کرنا ہو گی کہ سوشل میڈیا پر لائیو سٹریمنگ محفوظ نہیں۔ ہر کونٹینٹ کرئیٹر رول ماڈل نہیں ہوتا۔انہیں یہ بات باور کرانا ہوگا کہ ٹک ٹاک لائیو پر ملنے والا ایک معمولی گفٹ آپ کی سوشل ویلیوز کو توڑنے کا باعث بن سکتا ہے ۔ آپ کا مستقبل تاریک کر سکتا ہے ۔آپ کو شرمندگی کی کھائی میں دھکیل سکتا ہے ۔ اس سارے گھن چکر میں ہمیں ویورز کے کردار کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے ۔ وہ شخص جو دوسری طرف بیٹھا ہے۔ گفٹ بھیج رہا ہے۔مطالبہ کر رہا ہے۔اکسا رہا ہے کہ مزید کرو۔ان کے بارے میں پتا کرنا ہوگا کہ یہ لوگ کون ہیں؟۔ان کا مقصد کیا ہے؟۔ یہ کوئی عام لوگ ہیں یا کوئی منظم گروپ کام کر رہا ہے ۔ یہ بات میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ ٹک ٹاک لائیو کے اس کھیل کو منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کرنے کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں۔خواتین ٹک ٹاکرز کی ویڈیوز لیک کرنے کےپیچھے بھی چند بھاری گفٹس دینے والے ویورز ہی تھے ۔میرے ان سوالات کے جواب صرف جذبات سے نہیں ملیں گے۔ بلکہ تحقیقات سے ملیں گے۔
۔میں یہ نہیں کہتا کہ آپ ہر خاتون کو مجرم بنادیں۔ یا ہر کونٹینٹ کرئیٹر کو بدنام کریں ۔ ایسا کرنا ناانصافی ہوگی ۔
لیکن
کون کس کو ایکسپلائٹ کر رہا ہے ؟
کون اکسا رہا ہے؟
کون پیسہ کما رہا ہے؟
کون کونٹینٹ کو پھیلا رہا ہے ؟؟؟
اور کون اس پورے نظام کو روکنے میں ناکام ہو رہا ہے؟
فوکس کسی فرد پر نہیں ۔بلکہ پورے میکنزم پر ہونا چاہئے ۔حکومت کو ایک بات سمجھنی ہوگی۔سوشل میڈیا کی کسی ایپلیکیشن پر پابندی لگانا مسئلے کا حل نہیں۔آج ٹک ٹاک لائیو کا پلیٹ فارم دستیاب ہے تو اس کی بندش کے بعد کوئی اور ایپ آ جائے گی اور لوگ اس پر بھی یہی کام شروع کر دیں گے ۔ اس لئے حکومت کو اپنا نگرانی کا نظام بہتر کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جب کوئی شکایت آئے تو اس پر فوری ایکشن ہو۔ ویڈیوز کا فرانزک آڈٹ ہو۔ اور کوئی بھی ذمہ داری سے بچ نہ سکے ۔ ہمارے معاشرے کو بھی اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی نئی نسل کو کیا دینا چاہتے ہیں؟
علم؟
ہنر؟
تخلیق؟
کارکردگی؟
یا پھر۔۔۔
اسے فیملی ویلاگنگ سکھانا چاہتے ہیں۔۔۔؟؟؟
میرا یہ سوال حکومت سے بھی ہے اور ریگولیٹرز سے بھی۔ میرا یہ سوال سائبر کرائم اداروں سے بھی ہے اوروالدین سے بھی ۔ اور آپ سب سے بھی۔میں جاننا چاہتا ہوں کہ یہ ویوز کا چکر ہماری زندگیوں میں اتنا اہم کیوں ہوتا جا رہا ہے؟ہم ایک انسان کی عزت کی سرعام نیلامی پر خاموش کیوں ہیں؟یہ معاشرہ اپنی اخلاقی حدود کیوں بھولتا جا رہا ہے ؟اور ریاست اس غلیظ بزنس ماڈل کیخلاف کب حرکت میں آئے گی ؟؟( نوید شیخ ) ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں