تحریر: آصف علی سید۔۔۔
پبلک نیوز، بول، نیو نیوز، ایک نیوز، سنو نیوز، چینل فائیو، نیوز ون، آج ٹی وی ملازمین جولائی کی سیلری سے تاحال محروم۔۔ اگست کی تنخواہ دینے کا وقت بھی آگیا۔ ستمبر صحافیوں کے لیے ستمگر ثابت ہوگا۔۔
اللہ رحم کرے۔۔
اصل مسئلہ کیا ہے صحافیوں کے حقوق۔ آزادی صحافت اور صحافیوں کی فلاح و بہبود کے نام پر اپنا منجن بیچنے والی صحافتی تنظیمیں جب صحافیوں کے نام پر منجن بیچ رہی ہیں تو آخر کچھ کرتی کیوں نہیں ہیں؟
اس کی سب سے اہم وجہ تو یہ ہے کہ صحافتی تنظیموں کے نام نہاد لیڈران کبھی بےروزگار نہیں ہوتے۔
دوسرے جن اداروں میں وہ خود نوکر ہیں وہاں بھی تنخواہوں کا مسئلہ ہے لیکن اپنے دفتر میں بھی آواز نہیں اٹھاسکتے کیونکہ “مجبوری” ہے۔۔۔
سمجھ تو آپ گئے ہوں گے۔۔۔
تیسری بات یہ کہ ہم تو لیڈر ہیں ہم کیوں کسی کے لیے دھکے کھائیں یہ پروٹوکول کے خلاف ہے بھلا کوئی لیڈر خود جدوجہد کرتا ہے سوائے ان کیسز کے جہاں اپنا مفاد وابستہ ہو۔۔
صحافیوں کے نام پر منجن بیچ بیچ کر اتنا مال جمع ہوگیا کہ سوچتے ہیں کہ یار یہ کام تو بہت اچھا ہے صحافیوں کو بیچتے جاو مال بناتے جاو۔۔ صحافی جائے بھاڑ میں۔۔۔
تازہ ترین کیس مرزا افتخار بیگ اور ایک کیمرا مین کا سب کے سامنے ہے۔۔
اب آوازیں آئیں گی کہ ہم نے ان لوگوں کے لیے بہت کچھ کیا ہے ہر بات بتائی نہیں جاتی۔ وغیرہ وغیرہ۔۔
بہت سارے لیڈران نے غیر ملکی دورے کیے۔ صحافیوں کے غم میں ملک بھر میں بڑی بڑی تقریبات منعقد کی گئیں۔ ہوائی جہازوں پر ملک بھر سے صحافیوں کو اسلام آباد بلوایا گیا۔۔ یقینا کروڑوں روپے خرچ ہوئے ہوں گے۔۔۔ خیر فنڈز ملے ہیں تو تھوڑا تو خرچ کرنا ہی ہوتا ہے۔۔۔ اصل بات کی طرف آتے ہیں۔ تنخواہیں کیوں نہیں دی جارہی؟
اس مرتبہ تمام میڈیا مالکان واقعی ایک پیج پر ہیں۔۔ تنخواہیں نہیں دینی چاہے کچھ ہوجائے اور وقت پر تو بالکل نہیں دینی۔۔ پانچ سے چھ ماہ کی تنخواہیں تو روک کر رکھنی ہیں۔۔ اور سب نے ایک طریقہ بنایا ہے پہلے تیس سے پچاس ہزار والوں کو دینی ہے۔ اس کے بعد نوے ہزار تک والوں کو دینی ہے۔۔ بس اس کے بعد والوں کو اگر پوچھیں تو کہنا ہے ابھی فنڈز نہیں آئے ہیں یا اگلے ہفتے انشاء اللہ کہہ کر ٹرخادینا ہے۔۔
صحافتی اداروں میں تنخوایوں اور اس سے منسلک دیگر مسائل کے حل کے لیے صحافتی تنظیمیں کردار ادا کرتی ہیں لیکن یہاں تو ایسا کوئی قانون ہے ہی نہیں۔۔ پریس کلب کو کہو تو جواب ملتا ہے یہ یوجیز کا کام ہے اور یو جیز تو کسی کو جوابدہ ہے ہی نہیں۔۔۔
محسن نقوی نے ملک کا سسٹم بیٹھ گیا ہے یہ تو بتادیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ صحافت کا سسٹم اپنا حصہ لے کر اس کے وزن سے بیٹھ چکا ہے اور وزن بھی حلق پر پڑا ہے اس لیے آواز بھی نہیں نکل رہی۔۔۔
اتنی لمبی تحریر لکھ دی لیکن فائدہ اس کا بھی کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ملک بھر کے پریس کلبوں اور یو جیز سے ان کو ملنے والی کروڑوں روپے کی گرانٹ کا حساب لیا جائے۔۔ تاکہ شفافیت قائم رہے۔ حق داروں کو ان کا حق مل سکے۔۔۔ ( آصف علی سید)
218