تحریر: امجدعثمانی۔۔۔
سنئیر اینکر پرسن اور کالم نگار جناب رئوف کلاسرا کی ٹیم کے رپورٹر جناب شفیق لغاری گھر پہنچ گئے ۔۔۔کلاسرا صاحب کے مطابق راول پنڈی پولیس نے اطلاع دی کہ شفیق لغاری کو تلاش کر لیا گیا ہے۔ انہیں کل رات شمس آباد علاقے سے ایک سیاسی پارٹی کا ورکر سمجھ کر اٹھا لیا گیا تھا۔۔۔۔کلاسرا صاحب نے لکھا کہ میرا لغاری سے لیہ کالج سے 1987 سے تعلق ہے اور اب وہ 2015 سے میری ٹیم میں کام کرتا ہے اور اپنی روزی روٹی کماتا ہے۔ ایک بے ضرر سا انسان ہے۔۔۔۔۔شرمناک بات یہ ہے کہ جناب شفیق لغاری کو ایک سیاسی جماعت کا کارکن سمجھ کر حراست میں لیا گیا۔۔۔شومئی قسمت کہ وطن عزیز میں جمہوریت تماشا بن کر رہ گئی ہے اور ملک پولیس سٹیٹ۔۔۔۔سوال ہے کہ پولیس کے پاس کون سی مائیکرو سکوپ ہے جس سے وہ کسی سیاسی جماعت کے کارکن کے اندر جھانک کر اس کی شناخت کر لیتی ہے؟ویسے لغاری صاحب تو حلیے سے کسی طور پر بھی پولیس کو کسی" مطلوب پارٹی" کے کارکن نہیں لگتے۔۔۔۔وہ بادی النظر میں زیادہ سے زیادہ خاکسار تحریک کے کارکن یا پیپلز پارٹی کے کامریڈ لگتے ہیں۔۔۔۔۔لیکن داد بنتی ہے کہ راول پنڈی پولیس نے انہیں پی ٹی آئی کے کھاتے میں ڈال کر اٹھا لیا۔۔۔۔۔ابھی کچھ ہفتے پہلے لاہور پولیس نے ٹی وی کیمروں کے سامنے لاہور کے کورٹ رپورٹر ناطق ریحان کو جیل وین میں ٹھونس دیا جبکہ ان کے ساتھی رپورٹر دہائی دیتے رہے کہ یہ میڈیا کا بندہ ہے اور ٹی وی رپورٹر ہے۔۔۔۔۔ابھی کچھ دن پہلے شکرگڑھ پولیس نے ایک اخبار اور ٹی وی کے نامہ نگار شاہد اقبال کی والدہ کیخلاف جھوٹے کراس ورشن میں مقدمہ دے دیا اور جرم یہ بتایا کہ اس نے پھونکنی پکڑی ہوئی تھی۔۔۔اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ پولیس کا مجموعی مزاج گرامی ایک سا ہی ہے۔۔۔بقول رئیسانی صاحب پولیس پولیس ہے چاہے راولپنڈی لاہور کی ہو یا شکرگڑھ کی۔۔۔۔۔۔ویسے یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ پولیس کا پرانا وطیرہ ہے کہ جسے چاہیں جب چاہیں اٹھالیں۔۔۔یہ پرویز مشرف کا دور تھا۔۔۔لاہور پریس کلب میں اسلامی جمعیت کا پروگرام تھا۔۔۔۔حافظ سلمان بٹ مرحوم بھی اندر ہی تھے۔۔۔۔پولیس نے پریس کلب کا گھیرائو کر لیا۔۔۔تب روزنامہ آواز کے سب ایڈیٹر اور لاہور پریس کلب کے لائف ممبر جناب صلاح الدین انقلابی دفتر جانے کے لیے باہر نکلے۔۔۔۔پولیس نے ان کی طویل قامت اور چہرے پر ہلکی داڑھی دیکھتے ہوئے جمعیت کا لیڈر سمجھ لیا اور اٹھا لے گئی۔۔۔۔تھانے جا کر کھلا وہ صحافی ہیں تو اظہار ناراضی فرمایا کہ آپ نے بتایا کیوں نہیں؟انہوں نے کہا کہ آپ نے موقع ہی کب دیا۔۔۔۔۔!!!!کہنے کا مطلب ہے کہ پولیس ایسے مواقع پر حواس کھو بیٹھتی ۔۔۔۔"اندھی اور بہری" ہو جاتی اور پھر عدالتوں میں ندامت اٹھاتی ہے۔۔۔۔ جناب شفیق لغاری کی گرفتاری بھی کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ اب تو ملک میں "عہد شہباز" کی "پرواز٫ہے۔۔۔وہی شہباز شریف جو بازو لہرا لہرا کر جناب حبیب جالب اور جناب فیض احمد فیض کی انقلابی نظمیں کہتے ہیں۔۔۔۔لیکں یہ تب کی بات ہے جب وہ مسند اقتدار سے دور ہوتے ہیں۔..۔ما شا اللہ اب تو وزیر اعظم پاکستان ہیں اور" دل پر پتھر "رکھ کر ملک چلا رہے ہیں۔۔۔۔۔ (امجد عثمانی)۔۔۔
25