نو عالمی تنظیموں کا پاکستان میں آزادی صحافت کی صورتحال بہتر بنانے کا مطالبہ۔۔۔۔ 8

نو عالمی تنظیموں کا پاکستان میں آزادی صحافت کی صورتحال بہتر بنانے کا مطالبہ۔۔۔۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) سمیت نو ملکی و بین الاقوامی صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان میں آزادیٔ صحافت کی مبینہ طور پر بگڑتی ہوئی صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے صحافیوں کی حراست، انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن کی بندش، میڈیا اداروں کے معاملات میں مبینہ مداخلت اور صحافیوں کے خلاف فوجداری تحقیقات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیموں نے 11 ستمبر کو وزیراعظم کے نام مشترکہ خط میں کہا کہ حالیہ مہینوں میں ان اقدامات سے صحافیوں کی آزادانہ اور محفوظ رپورٹنگ کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔
خط پر بولو بھی، CIVICUS: ورلڈ الائنس فار سٹیزن پارٹیسپیشن، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ)، فریڈم نیٹ ورک پاکستان، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP)، انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس (FIDH)، انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ (IPI)، رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (RSF) اور رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان نے دستخط کیے۔ خط کی نقول وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن رابعہ جویری آغا کو بھی ارسال کی گئیں۔
تنظیموں نے اپنے خط میں کہا کہ صحافیوں کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی تحقیقات کے بڑھتے ہوئے استعمال پر انہیں تشویش ہے۔ خط کے مطابق عوامی مفاد سے متعلق رپورٹنگ کو مبینہ جعلی معلومات، امنِ عامہ یا قومی سلامتی جیسے وسیع جواز کے تحت محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔ تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صحافت کو مجرمانہ کارروائی کا موضوع بنانے کے لیے پیکا اور سائبر کرائم تحقیقات کے استعمال کو روکا جائے۔
خط میں آزاد صحافیوں رضی طاہر اور محمد سیف کا معاملہ بھی اٹھایا گیا، جنہیں یکم اگست کو اسلام آباد میں ان کے دفتر سے لے جائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ تنظیموں نے ان کے مقام اور قانونی حیثیت کی وضاحت، قانونی معاونت اور اہل خانہ سے رابطے کی سہولت فراہم کرنے، حراست کے حالات کی آزادانہ تحقیقات اور غیر قانونی حراست کے ذمہ دار افراد کے احتساب کا مطالبہ کیا۔ تاہم خط کی تاریخ 11 ستمبر ہے جبکہ رضی طاہر اور محمد سیف کی اٹک جیل سے رہائی 9 ستمبر کو، تقریباً 40 روز بعد، رپورٹ ہوچکی تھی؛ اس لیے خط میں شامل ان کی فوری رہائی کا مطالبہ اس وقت تک ہونے والی پیش رفت سے پیچھے رہ گیا تھا۔
نو تنظیموں نے بہاولپور میں روزنامہ خبریں کے رپورٹر میاں زاہد اویسی پر 7 جون کے حملے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ مشترکہ خط کے مطابق تقریباً دس مسلح افراد نے اویسی کو تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ زخمی ہوئے۔ اویسی نے پولیس کو بتایا تھا کہ حملہ مقامی منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق ان کی رپورٹنگ سے منسلک تھا۔ خط کے مطابق پولیس نے تین مشتبہ افراد کو گرفتار کیا، تاہم کئی مبینہ حملہ آور تین ماہ گزرنے کے باوجود گرفتار نہیں ہوئے تھے۔
تنظیموں نے حکومت سے فارن میڈیا فسیلی ٹیشن گائیڈ لائنز 2026 واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔ خط کے مطابق ان قواعد کے تحت غیر ملکی میڈیا اداروں کے لیے کام کرنے والے پاکستانی اور بین الاقوامی صحافیوں کو بالخصوص اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر سرکاری اسائنمنٹس کے لیے این او سی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ تنظیموں نے ان ضوابط میں نظریۂ پاکستان، خودمختاری، سلامتی اور امنِ عامہ سے متعلق بنیادوں پر ایکریڈیٹیشن معطل یا منسوخ کرنے کی دفعات پر بھی اعتراض اٹھایا۔
مشترکہ خط میں صحافی سہراب برکت کی 5 جون کو گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ انہیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاج سے متعلق یوٹیوب رپورٹ کے بعد این سی سی آئی اے نے پیکا کے تحت گرفتار کیا تھا۔ وہ 15 جون کو ضمانت پر رہا ہوگئے تھے۔ تنظیموں نے کہا کہ حالیہ مہینوں کے دوران دیگر صحافیوں کو بھی پیکا یا این سی سی آئی اے کی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انسانی حقوق اور صحافتی تنظیموں نے معلومات کی ترسیل روکنے کے لیے انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن بلیک آؤٹس کے استعمال کو بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ خط میں کہا گیا کہ 5 جون کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاج کے دوران انٹرنیٹ سروس معطل ہونے سے صحافیوں کو ذرائع سے رابطے، واقعات کی تصدیق اور خبری مواد کی ترسیل میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ تنظیموں نے 2 اگست کو الجزیرہ کی ویب سائٹ تک رسائی محدود ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا۔
خط میں آزاد نشریاتی اداروں کے معاملات میں مبینہ سرکاری مداخلت روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آج ٹی وی سے منیزے جہانگیر کی برطرفی اور ان کے پروگرام 'اسپاٹ لائٹ' کی بندش کا حوالہ بھی دیا گیا۔ تنظیموں نے اسے ریاست یا دیگر طاقتور حلقوں کے لیے حساس سمجھے جانے والے معاملات کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو آف ایئر کیے جانے کے وسیع تر رجحان سے جوڑا۔ مشترکہ خط میں 28 جون کو جیو نیوز کا لائسنس 15 روز کے لیے معطل کیے جانے کا معاملہ بھی شامل کیا گیا۔ یہ تمام نکات خط میں تنظیموں کے مؤقف اور الزامات کے طور پر بیان کیے گئے ہیں۔
سی پی جے نے مشترکہ خط جاری کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کو صحافیوں کو دھمکانے، ہراساں کرنے یا من مانی حراست میں رکھنے کے ذمہ دار افراد کے احتساب کو یقینی بنانا چاہیے۔ تنظیموں نے حکومت سے صحافیوں کے قانونی حقوق، وکیل تک رسائی، اہل خانہ سے رابطے اور قانونی طریقۂ کار کے احترام کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔مشترکہ خط کے اختتام پر تنظیموں نے ان معاملات کو فوری نوعیت کے تحفظات قرار دیتے ہوئے وزیراعظم سے جواب کی توقع ظاہر کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں