آج نیوز میں جہاں ایک جانب ملازمین کو مئی سے تنخواہیں ادا نہیں کی جارہی ہیں وہیں چند من پسند لوگوں کو انکریمنٹ لگادیاگیا ہے، جس کا اطلاق اگست کی سیلری سے کیا جائے گا۔۔ پپو کا کہنا ہے کہ ایک سو پانچ دن بعد گزشتہ دنوں تریپن ہزار سیلری والوں کو مئی کی سیلری دی گئی تھی جس کے بعد دیگر لوگوں کو ایک سو بارہ دن سے کوئی سیلری نہیں ملی۔۔ پپو کا کہنا ہے کہ ایک اینکر جو تھری سکس فائیو چینل جارہا تھا،اسے روکنے کیلئے چینل انتظامیہ نے اس کی سیلری میں چالیس ہزار روپے کا اضافہ کردیا، اسی طرح ایک کاپی ایڈیٹر کی سیلری میں تیس ہزار کا اضافہ کرکے اسے بھی جانےسے روک لیاگیا، لیکن ان کو یہ اضافی تنخواہ کب دی جائے گی یہ اب تک کلیئر نہیں ہوسکا۔۔ دوسری جانب دیگر اینکرز کا یہ حال ہے کہ ایک خاتون اینکر کو سی ایف ایس نامی بیماری ہوگئی ہے جب کہ مستقل مائیگرین میں مبتلا ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے وہ دفتر نہیں آرہیں، دوسری خاتون اینکر شیاٹیکا کی مریض ہوگئیں ہیں جس کی وجہ انہیں چلنے پھرنے میں پرابلم ہے مگر اس کے باوجود بڑی مشکل سے دفتر آرہی ہیں، چیف رپورٹر بھی ایک ماہ سے شیاٹیکا کے مرض میں مبتلا ہیں۔ لیکن پیسے نہ ہونے کی وجہ سے علاج نہیں کرا پارہے اور بیماری کی حالت میں بھی دفتر آنے پر مجبور ہیں۔۔پپو نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ آج نیوزمیں ایک ماہ سے نائٹ شفٹ بند ہے، نائٹ شفٹ کے ملازمین کا کہنا ہے کہ ہمیں پک کرالیں لیکن چینل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہم پک نہیں کراسکتے۔۔ دوسری جانب جب اٹھارہ اگست کو اینکرز نے اعلان کیا کہ انکے پاس اب دفتر آنے کے پیسے نہیں اس لئے وہ لوگ نہیں آئیں گے تو چینل انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اینکرز کو دفتر کی گاڑی ان کے گھروں سےپک کرے گی۔۔ ایک اینکر کو صفورا چورنگی، ایک کو بفرزون،ایک کو ملیر ہالٹ اور ایک کو ملیر کینٹ سے پک کرنے کیلئے چینل انتظامیہ نے رینٹ پر نئی ٹویوٹا کرولا کار لے لی ہے۔۔۔پپو نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ چینل کے اندر اتنا برا حال ہے کہ واش رومز میں صابن ہے نہ چائے بنانے کا سامان جس کی وجہ سے ملازمین کی چائے بھی بند ہے۔ تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے کبھی این ایل ای نہیں ہوتا، کبھی کاپی ایڈیٹر، کبھی کوئی اور،، جس کی وجہ سے ایک کا کام دوسرے پر بوجھ بن جاتا ہے، پپو کے مطابق انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف خبریں بلکہ چینل کے پروگرام بھی متاثر ہورہے ہیں لیکن چینل انتطامیہ کو کوئی پرواہ نہیں۔۔ پپو کا مزید کہنا ہے کہ دفتر میں افرادی قوت کی کمی کے باعث چینل انتظامیہ نے اشتہار بھی دیا تاکہ مزید لوگ رکھ لیں لیکن لوگوں نے یہ کہہ کر آنے سے انکار کردیا کہ آپ لوگ تنخواہ ہی نہیں دیتے تو آپ کے چینل میں کام کرنے کا کیا فائدہ۔۔۔پپو نے انکشاف کیا ہے کہ چینل کا مالک گزشتہ روز بیرون ملک پرواز کرگیا اور ادارے کا یہ حال ہے کہ کوئی بھی ملازمین کو یہ بتانے پر تیار نہیں کہ تنخواہ کب دی جائے گی۔۔ صورتحال بہت گھمبیر ہوچکی ہے، صحافتی تنظیموں کو اس کا سخت نوٹس لینا ہوگا۔۔۔ملازمین کی اسٹریس اتنا بڑھ گیا ہے کہ ایک رپورٹر گزشتہ دنوں دوران ڈیوٹی گرکر بے ہوش ہوگیا اسے فوری اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے بتایا کہ اس کابلڈپریشر شوٹ کرگیا ہے۔۔۔
654
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل