78

خاتون ٹک ٹاکرکے قتل کے الزام میں چار افراد زیرحراست۔۔۔۔

ٹیکسلا کے علاقے میں ٹک ٹاکر خاتون شمسو بی بی عرف عائشہ کی ٹارگٹ کلنگ کے کیس میں راولپنڈی پولیس کی خصوصی ٹیم نے تین مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا جو نامزد مفرور ملزمان سے رابطے میں تھے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق مشکوک افراد کو ٹیکسلا، اٹک اور کے پی علاقوں سے تحویل میں لیا گیا، مشکوک افراد نامزد ملزمان کاشی، کوثر اور جاوید کے قریبی عزیز ہیں، زیر حراست افراد نامزد ملزمان سے رابطہ میں تھے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق پولیس نے جائے وقوع کی جیو فینسنگ بھی کروالی، ملزمان کے موبائل فونز کی لوکیشن جائے وقوع پر نہیں آئی، فائرنگ کے وقت ملزمان کے موبائل فونز کی لوکیشن مری میں تھی۔تفتیشی ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ ٹکر ٹاکر کے قتل کے بعد سے ملزمان کے گھروں پر تالے لگے ہوئے ہیں، مقتولہ کا موبائل فون بھی فرانزک کے لئے بجھوا دیا گیا۔ دریں اثنا بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق راولپنڈی میں پولیس نے ٹک ٹاکر شمسو عرف عائشہ گلمنہ کے قتل کے مقدمے میں ایک نامزد ملزم اور تین سہولت کاروں کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔شمسو بی بی کو 14 اگست کو تھانہ ٹیکسلا کی حدود میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔ اس واقعے سے متعلق درج ہونے والی ایف آئی آر میں ان کے والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی گذشتہ تین، چار برس سے ٹک ٹاک پر موجودتھیں اور ان کے 13 لاکھ فالوورز بھی تھے۔اس مقدمے کے تفتیشی افسر سب انسپیکٹر محمد فیاض نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ شمسو بی بی کے قتل کے مقدمے میں نامزد ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن پر ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ کو کال کر کے گھر سے باہر بُلانے کا الزام ہے۔تفتیشی افسر کے مطابق مقدمے میں نامزد دو مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ملزمان کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے اور وہ اس واقعے کے بعد روپوش ہوگئے ہیں۔ تاہم سب انسپیکٹر محمد فیاض کے مطابق جیوفینسنگ سے معلوم ہوا ہے کہ شمسو بی بی کے قتل کے وقت دونوں ملزمان کے موبائل فونز کی لوکیشن مری کی آ رہی ہے۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کے زیر استعمال موبائل فونز کی لوکیشن جائے حاثہ پر نہ ہونے کی وجہ سے یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ ٹک ٹاکر کو کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل کروایا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد دونوں ملزمان روپوش ہوگئے ہیں اور ان کے گھروں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں