174

غیر ملکی میڈیا سے متعلق نئی پابندیاں واپس لی جائیں، ڈان کا مطالبہ ۔۔۔

پاکستان کے معروف انگریزی روزنامے ڈان نے وفاقی حکومت سے غیر ملکی میڈیا کے لیے متعارف کرائے گئے نئے قواعد واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف صحافیوں کے لیے آزادانہ رپورٹنگ مشکل ہوگی بلکہ پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
جمعرات کو ’’بیڈ پریس‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے اداریے میں اخبار نے کہا کہ حکومت کی نئی فارن میڈیا فسیلیٹیشن گائیڈ لائنز بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور پاکستان میں ان کی معاونت کرنے والے افراد پر ضرورت سے زیادہ پابندیاں عائد کرتی ہیں۔
یہ تنقید حکومت کی جانب سے ایسا نیا فریم ورک متعارف کرائے جانے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے، جس کے تحت غیر ملکی صحافیوں کو اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر رپورٹنگ کے لیے پیشگی سرکاری اجازت حاصل کرنا ہوگی۔اداریہ ایسے وقت شائع ہوا ہے جب حالیہ دنوں میں غیر ملکی میڈیا سے متعلق متعدد اقدامات سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے حکام نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات سے متعلق رپورٹنگ پر اعتراض کرتے ہوئے پاکستان میں الجزیرہ کی ویب سائٹ تک رسائی محدود کردی تھی۔دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر حکومت نے بی بی سی نیوز کی اس رپورٹ کو بھی مسترد کردیا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ راولاکوٹ میں سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔ پاکستانی حکام نے بی بی سی کی رپورٹ اور اس میں عائد الزامات کی تردید کی تھی۔
نئے قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے ڈان نے کہا کہ حکومت نے ان ہدایات کو غیر ملکی میڈیا کے لیے تصدیق، رابطہ کاری اور رسائی کے نظام کو بہتر بنانے کی انتظامی کوشش قرار دیا ہے، تاہم عملی طور پر ان ضوابط سے بین الاقوامی رپورٹنگ پر سرکاری نگرانی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ہدایات کے تحت غیر ملکی میڈیا اداروں، صحافیوں، فری لانسرز، میڈیا مالکان، پروڈکشن عملے، اسپانسرز، فکسرز اور بین الاقوامی میڈیا کے لیے کام کرنے یا مواد فراہم کرنے والے دیگر افراد کے لیے وزارتِ اطلاعات و نشریات میں رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کی ’’کسی بھی حیثیت میں‘‘ معاونت کرنے والے پاکستانی افراد اور اداروں کو بھی وزارتِ اطلاعات کے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ میں رجسٹریشن کرانا ہوگی۔اس کے علاوہ غیر ملکی صحافیوں کو پاکستان کے تین بڑے شہروں سے باہر کسی بھی رپورٹنگ اسائنمنٹ پر جانے سے پہلے عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ، یعنی این او سی، حاصل کرنا ہوگا۔اداریے میں ان شقوں پر بھی اعتراض کیا گیا ہے جن کے تحت کسی صحافی کی ایکریڈیٹیشن اس صورت میں معطل یا منسوخ کی جاسکتی ہے جب حکام یہ سمجھیں کہ اس نے پاکستان کے نظریے، خودمختاری، سلامتی یا امنِ عامہ کے خلاف کام کیا ہے۔
ڈان کے مطابق ان اصطلاحات کی وسیع اور غیر واضح تشریح کے باعث بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ کام کرنے والے پاکستانی صحافی، مترجم، ڈرائیور اور دیگر مقامی کارکن بھی سرکاری کارروائی کی زد میں آسکتے ہیں، اگر حکام کو کسی غیر ملکی خبر رساں ادارے کی شائع کردہ رپورٹ یا مواد پر اعتراض ہو۔اخبار نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومتوں کو غلط معلومات کا جواب رپورٹنگ پر پابندیاں عائد کرکے نہیں بلکہ شفاف رابطہ کاری، حقائق کی فراہمی اور مؤثر تردید کے ذریعے دینا چاہیے۔اداریے میں کہا گیا کہ نئی ہدایات سے عالمی سطح پر یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ پاکستان آزاد اور خودمختار صحافت کے لیے مخالفانہ رویہ رکھتا ہے۔ڈان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فریم ورک کو مکمل طور پر واپس لے یا کم از کم لازمی این او سی کی شرط اور ایکریڈیٹیشن منسوخ کرنے کے لیے متعین مبہم اور وسیع بنیادوں کو ختم کرے۔
نئی ہدایات کو آزادیٔ صحافت کے حامی حلقوں کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پیشگی منظوری کی شرائط سے رپورٹنگ میں تاخیر ہوسکتی ہے اور پاکستان کے بڑے شہری مراکز سے باہر ہونے والے واقعات کی آزادانہ بین الاقوامی کوریج کی حوصلہ شکنی ہوگی۔تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد صحافت کو محدود کرنا نہیں بلکہ رابطہ کاری بہتر بنانا اور غیر ملکی میڈیا کی سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں