سندھ کے شہرخیرپور سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی اور سماجی کارکن سجاد حسین شر ببرلو کے علاقے سے پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئے، جس کے باعث اہلِ خانہ اور صحافتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔اہلِ خانہ کے مطابق سجاد حسین شر ببرلو بائی پاس پر لاپتہ بچوں کی بازیابی کے لیے جاری احتجاجی دھرنے کی کوریج اور شرکت کے لیے گھر سے روانہ ہوئے تھے، تاہم اس کے بعد وہ واپس گھر نہیں پہنچے اور ان سے رابطہ بھی منقطع ہوگیا۔تھانہ اے سیکشن کے ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ صحافی سجاد حسین شر ببرلو تھانے کی حدود میں لاپتہ ہوئے ہیں، لہٰذا معاملے کی تحقیقات متعلقہ تھانے کی حدود میں کی جارہی ہیں۔مقامی اطلاعات کے مطابق سجاد حسین شر کئی روز سے لاپتہ ہیں، جبکہ ان کے اہلِ خانہ، صحافیوں اور سماجی کارکنوں نے ان کی محفوظ اور فوری بازیابی کے لیے احتجاج بھی کیا ہے۔بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سجاد حسین شر کو مبینہ طور پر احتجاجی دھرنے کے مقام سے اٹھایا گیا، تاہم پولیس یا کسی دوسرے سرکاری ادارے کی جانب سے اس دعوے کی تاحال تصدیق نہیں کی گئی۔اہلِ خانہ اور مقامی صحافتی تنظیموں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی خیرپور سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافی کی گمشدگی کا فوری نوٹس لیا جائے، معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور انہیں جلد از جلد بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔آخری اطلاعات تک سجاد حسین شر کی بازیابی، مقدمے کے اندراج یا تحقیقات میں پیش رفت سے متعلق کوئی باضابطہ سرکاری بیان سامنے نہیں آیا تھا۔
192
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل