76

کے یوجے دستورکے زیراہتمام سودی معیشت کے خاتمے پر سیمینارکا انعقاد۔۔۔

کے یو جے دستور کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب میں سودی معیشت کے خاتمے کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرِ معیشت قانت خلیل اللہ نے کہا کہ اسلام نے زکوٰۃ کا مکمل نظام دیا ہے اور شریعت کے مطابق زکوٰۃ ہی بنیادی مالی ذمہ داری ہے، جبکہ ربا (سود) اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے اور حکومت ہر ماہ تقریباً 500 ارب روپے سود ادا کرتی ہے، جس کا بوجھ بالآخر عوام پر منتقل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق قرضوں میں اضافے اور منی سپلائی بڑھنے سے مہنگائی اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ موجودہ بینکاری نظام بھی زیادہ تر قرضوں پر انحصار کرتا ہے۔ماہر معیشت قانت خلیل اللہ نے کہا کہ حکومت کو ٹیکس نظام میں مؤثر اصلاحات کرنا ہوں گی اور زکوٰۃ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا تاکہ غربت میں کمی لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی معاشی اصولوں پر عمل درآمد سے بجٹ خسارے، مہنگائی اور دیگر معاشی مسائل پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔تقریب کے دوران یوسف القرضاوی کی آراء کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید میں زکوٰۃ کے مصارف واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں اور دولت کی گردش صرف امیر طبقے تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ سود سے پاک معاشی نظام اور مؤثر زکوٰۃ و ٹیکس اصلاحات ہی پائیدار معاشی استحکام کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔تقریب میں کے یو جے دستور کے صدر نصراللہ چودھری نے ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کا واحد حل سود کے خاتمے کو قرار دیا، سیمینار میں سینئر صحافی ریاض اینڈی، امجد ارشاد راجہ کامران، کاشف منیر، خورشید رحمانی اور دیگر بھی موجود تھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں