پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے حالیہ فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریگولیٹر نے جیو نیوز کے نچلے درجے کے ملازمین کے خلاف تادیبی اقدامات کی توثیق کرکے اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ اور سیکریٹری جنرل ارشد انصاری نے مشترکہ بیان میں پیمرا کی ہدایت کو غیر آئینی، غیر قانونی اور عدلیہ کے دائرۂ اختیار میں بلاجواز مداخلت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکم ملازمت کے آئینی حق کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ ملازمت اور محنت کشوں سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے موجود قانونی طریقۂ کار میں بھی غیر ضروری مداخلت ہے۔ پی ایف یو جے کے مطابق پیمرا ایک ریگولیٹری ادارہ ہے، کوئی عدالتی فورم نہیں جو میڈیا کارکنوں کی ملازمت، برطرفی یا پیشہ ورانہ مستقبل کا فیصلہ کرے۔ پاکستان کا آئین اور ملک میں رائج محنت کشوں سے متعلق قوانین ایسے تنازعات کے حل کے لیے پہلے ہی مخصوص قانونی فورمز فراہم کرتے ہیں۔
صحافتی تنظیم نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹس یا سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کرانا بھی پیمرا کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں، بلکہ یہ ذمہ داری عدلیہ اور دیگر متعلقہ قانونی اداروں کی ہے۔ پی ایف یو جے نے کہا کہ میڈیا اداروں میں ادارتی اختیارات اور پالیسی فیصلے مالکان اور اعلیٰ انتظامیہ کے پاس ہوتے ہیں۔ ایسے میں سینئر ایگزیکٹوز کو ذمہ داری سے مستثنیٰ قرار دے کر نچلے درجے کے ملازمین کو موردِ الزام ٹھہرانا واضح دوہرا معیار ہے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ فرنٹ لائن میڈیا ورکرز کو ملازمتوں سے نکالنا اور انہیں میڈیا انڈسٹری میں کہیں اور کام کرنے سے عملی طور پر روک دینا بنیادی مزدور حقوق اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ پی ایف یو جے نے کہا کہ یہ ہدایت آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 18 سے متصادم ہے، جو ہر شہری کو کسی بھی جائز پیشے، تجارت یا کاروبار اختیار کرنے کی آزادی دیتا ہے۔ تنظیم نے آئین کے آرٹیکل 9 کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی شخص کو اس کے روزگار اور ذریعہ معاش سے محروم کرنا زندگی اور شخصی تحفظ کے آئینی حق کو متاثر کرتا ہے۔پی ایف یو جے نے پیمرا سے مطالبہ کیا کہ نچلے درجے کے ملازمین کو خصوصی طور پر نشانہ بنانے والی متنازع شقیں فوری طور پر واپس لی جائیں۔تنظیم نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ شقوں کے ذریعے نیوز روم میں کام کرنے والے ملازمین پر غیر منصفانہ طور پر ذمہ داری عائد کی جارہی ہے، جبکہ میڈیا مالکان اور اعلیٰ انتظامیہ کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ پی ایف یو جے نے خبردار کیا کہ اگر یہ شقیں واپس نہ لی گئیں تو متاثرہ کارکنوں کے روزگار، عزت اور حقوق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور تنظیمی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔ پیمرا کے اس فیصلے کے بعد پاکستان کے میڈیا سیکٹر میں ریگولیٹری اختیارات کی حدود، ادارتی ذمہ داری اور صحافیوں و میڈیا ورکرز کے مزدور حقوق کے حوالے سے جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے۔ اس تنازع سے متعلق کسی بھی قانونی چیلنج کا حتمی فیصلہ متعلقہ عدالتی فورمز ہی کریں گے۔
158