پنجاب یونین آف جرنلسٹس نے سما ء نیوز اور 92 نیوز میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں،استعفے لینے اور 92 نیوز میں کیمرہ مینوں کو ننگی گالیاں دینے جانے کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات اور پیمرا کی کونسل آف کمپلینٹ سے اس کا سخت نوٹس لینے اور ایسے تمام چینل کے اشتہارات بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔پی یوجے کے صدر نعیم حنیف،جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی، سینئر نائب صدر خرم پاشا، نائب صدر شیر علی خالطی ،جوائنٹ سیکرٹری خالد رشید، طلال اشتیاق، خزانچی جواد حسن گل اور ایگزیکٹو کونسل نے میڈیا آرگنائزیشن میں جاری جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور کارکنوں کی تذلیل کیے جانے کے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت اور ریاستی اداروں سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ پی یوجے کے صدر نعیم حنیف اور جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی نے کہا ہے کہ ایک طرف وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اسمبلی فلور پر بر ملا یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ حکومت نے گزشتہ تین سالوں میں ان میڈیا اداروں کو 15 ارب روپے کے اشتہارات دیئے اور ان اشتہارات کے کوئی بقایاجات بھی نہیں ہیں مگر دوسری طرف میڈیا مالکان سب سرکاری اشتہارات کو لوٹ کا مال سمجھ کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں جبکہ کارکنوں کی کئی کئی ماہ کی تنخواہیں نہ صرف زیر التوا ہیں بلکہ ان سے جبری استعفے بھی لئے جارہے ہیں اور جبری برطرفیوں بھی کی جارہی ہیں ۔ پی یوجے کی ایگزیکٹو کونسل نے اس بات پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا کہ 92 نیوز میں بعض کیمرہ مینوں کواور اسٹاف کے دیگر اہلکاروں کو ننگی گالیاں دیئے جانے کا واقعہ بھی ہوا اور انہیں نوکری سے نکال دیا گیا۔ ایگزیکٹو کونسل نے ان تمام معاملات پر ملک گیر احتجاجی لائحہ عمل دینے کا اعلان کیا ہے اور ان معاملات کو قانونی کارروائی کے لئے عدالت میں لے جانے کا عزم کیا ہے۔
287
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل