اگست میں پاکستان کے 8 صحافیوں کو دھمکیوں اور قانونی دباؤ کا سامنا 44

اگست میں پاکستان کے 8 صحافیوں کو دھمکیوں اور قانونی دباؤ کا سامنا

پاکستان میں اگست 2026 کے دوران کم از کم آٹھ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو دھمکیوں، مبینہ حملوں، قانونی نوٹسز اور دیگر دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ سب سے زیادہ پانچ واقعات پنجاب میں ریکارڈ کیے گئے۔فریڈم نیٹ ورک کی اگست 2026 کی ماہانہ مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں پانچ، اسلام آباد میں دو جبکہ خیبرپختونخوا میں ایک واقعہ ریکارڈ کیا گیا۔ متاثرہ صحافیوں میں پرنٹ میڈیا سے چار، ٹیلی وژن سے دو، ڈیجیٹل میڈیا سے ایک جبکہ ایک فری لانس صحافی شامل تھا۔
رپورٹ کے مطابق لاہور میں خبریں میڈیا گروپ کے ایڈیٹر رپورٹنگ طلال اشتیاق کو 10 اگست کو مبینہ طور پر قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ اسی ادارے کے ایگزیکٹو ایڈیٹر امتنان شاہد کو بھی قتل، اہل خانہ کو نقصان پہنچانے اور دفتر کو بم سے اڑانے کی مبینہ دھمکیاں موصول ہوئیں۔وہاڑی میں اردو پوائنٹ کے نمائندے انعام اللہ کو مبینہ طور پر ان کی رہائش گاہ پر مسلح افراد نے تشدد اور دھمکیوں کا نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق انعام اللہ پولیس سے متعلق معاملات پر رپورٹنگ کر رہے تھے۔خیبرپختونخوا کے ضلع لوئر جنوبی وزیرستان میں صحافی لال وزیر کے گھر کو مبینہ طور پر 20 سے زائد مسلح افراد نے گھیر لیا اور اہل خانہ سے صحافی کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ رپورٹ میں اہل خانہ کو مبینہ دھمکیاں دیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا۔تونسہ شریف میں جی ٹی وی کے نمائندے صغیر حسین شاہ کو اسپتال میں رپورٹنگ کے دوران مبینہ طور پر تشدد اور قتل کی دھمکی کا سامنا کرنا پڑا۔اسلام آباد میں سینئر صحافی اعزاز سید کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے دو نوٹس موصول ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق نوٹسز میں زیرِ تفتیش مواد اور الزامات کی مکمل تفصیلات واضح نہیں کی گئی تھیں۔صحافی اور محقق دانش ارشاد کا نام آزاد جموں و کشمیر کے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت فورتھ شیڈول میں شامل کیے جانے کا معاملہ بھی رپورٹ میں شامل کیا گیا۔ فریڈم نیٹ ورک کے مطابق اس اقدام کے حوالے سے کسی مخصوص صحافتی رپورٹ یا مواد کا ذکر سامنے نہیں آیا۔اسی طرح جیو نیوز کے سینئر رپورٹر ایاز اکبر یوسفزئی کو وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی کی جانب سے 20 کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیجا گیا۔ نوٹس میں ان کے بعض ٹی وی تبصروں کو مبینہ طور پر ہتک آمیز قرار دیتے ہوئے معافی، مواد ہٹانے اور ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا۔فریڈم نیٹ ورک کے مطابق اگست کے دوران سامنے آنے والے واقعات میں براہ راست دھمکیاں اور مبینہ جسمانی حملے ہی نہیں بلکہ سائبر کرائم، ہتک عزت اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت قانونی اور انتظامی اقدامات بھی شامل رہے۔
رپورٹ 11 ستمبر 2026 کو جاری کی گئی جس میں ملک بھر میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے خلاف اگست کے دوران سامنے آنے والے آٹھ کیسز کو دستاویزی شکل دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں