پردیسی خاتون صحافی کے ساتھ جو ہوا صحافی برادری کیلئے باعث شرمندگی 46

پردیسی خاتون صحافی کے ساتھ جو ہوا صحافی برادری کیلئے باعث شرمندگی

تحریر: سید بدرسعید۔۔
لاہور میں ایک پردیسی خاتون صحافی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ صحافی کمیونٹی کے لیے باعث شرمندگی ہے ۔۔ ایک لڑکی جو یہاں کسی کو نہیں جانتی اس پر رات اچانک اس کے فلیٹ کا دروازے بند کر دیا گیا ۔ لڑکی صبح چار بجے تک نشئیوں اور کتوں کے خوف کے ساتھ ساتھ اپنی عصمت کے تحفظ کا ڈر لیے سڑک پر کھڑی رہی ۔ اس کی ذہنی حالت کیا ہو گی اس کا اندازہ صرف وہ شخص لگا سکتا ہے جو کسی بیٹی کا باپ ہو اور اس میں کچھ غیرت باقی ہو ۔ اللہ کا شکر ہے اس حرکت کے بعد ایک اور سانحہ موٹر وے نہیں ہو گیا ۔
المیہ یہ ہے کہ چینل کے بڑے ملکی سیاست دان ہیں یعنی جنہوں نے بیٹیوں کے سر پر ہاتھ رکھنا ہوتا ہے ۔ مجھے نہیں لگتا کسی بیٹی کو اس طرح رات سڑک پر بے یارو مددگار کھڑا کرنے کے ذمہ داران کے خلاف کوئی ایکشن ہو گا البتہ میڈیا میں اپنا کیرئر بنانے والی ایک بہادر لڑکی کا میڈیا کیریئر شاید ختم ہو گیا ہے کیونکہ اس نے اسٹینڈ لے لیا تھا ۔اطلاعات کے مطابق اس کے خلاف پولیس اسٹیشن میں درخواست دے کر مقدمہ اور گرفتاری کا تاثر بھی دیا گیا تھا ۔ کچھ لوگوں یا ایک فرد کی جانب سے اس کی والدہ ، سرپرست ماموں اور دیگر رشتہ داروں کو گھٹیا پیغامات بھی بھیجے گئے ۔ بہرحال اب اختلافات ختم ہونے کی دستاویزات لکھوا لی گئی ہیں۔ "صلح " کروانے والے تمام معززین کو مبارک ہو ۔ معاملہ حل ہوا ۔ میں نے ادارے کے ایک بڑے بزرگ سے درخواست کی تھی کہ بچی کے خلاف مقدمہ واپس لیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف کاروائی کریں ۔ اس میٹنگ میں شاہد ، میں ،وہ لڑکی اور ایک بزرگ شامل تھے ۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ ذمہدار کو برطرف کر دیا جائے گا لیکن "صلح " سے یہ تاثر نہیں مل رہا ۔ اللہ کرے اس پر بھی ایکشن ہو۔۔ صلح میں یہ شق شامل ہو گئی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں کریں گے ۔ ادارہ فائدے میں رہا ہے ۔ لڑکی کا مستقبل اللہ جانے ۔۔معاملہ اس طرح حل ہونے کے باوجود دل دکھی ہے۔۔(سید بدرسعید)۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں