اے آر وائی نیوز سکھر سے وابستہ خاتون رپورٹر اور سندھ وومن جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی صدر سحرش کھوکھر کی جانب سے درج کرائے گئے مبینہ اغوا کی کوشش کے مقدمے میں عدالت نے کے ٹی این نیوز سکھر کے بیورو چیف اور سماء ٹی وی سکھر کے سابق بیورو چیف ساحل جوگی کو بری کردیا۔سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ/کنزیومر پروٹیکشن سکھر حمید اللہ خلجی کی عدالت نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا۔ مقدمہ تقریباً تین سال تک پولیس تفتیش اور عدالتی کارروائی کے مراحل سے گزرا۔سحرش کھوکھر نے 8 جولائی 2023 کو تھانہ سی سیکشن سکھر میں ایف آئی آر نمبر 116/2023 درج کروائی تھی، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ساحل جوگی اور دیگر افراد نے شہر میں انہیں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی نیت سے اغوا کرنے کی کوشش کی۔عدالتی فیصلے کے مطابق مدعیہ سحرش کھوکھر اور مقدمے کے عینی شاہد شاہ ولی کے بیانات میں اہم تضادات پائے گئے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ مدعیہ کے مطابق واقعہ لوگوں کے ہجوم میں پیش آیا اور مبینہ طور پر اغوا کی کوشش کے دوران ان کے کپڑے بھی پھٹ گئے، تاہم مقدمے کے عینی گواہ نے واقعے کے وقت اپنی موجودگی کے حوالے سے ایسی شہادت نہیں دی جو مدعیہ کے بیان کی مکمل تائید کرتی ہو۔عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی نوٹ کیا کہ واقعے کے مقام پر لوگوں کی موجودگی کے باوجود استغاثہ کی جانب سے کوئی آزاد گواہ پیش نہیں کیا گیا، جبکہ کیمرامین کی موجودگی کا ذکر ہونے کے باوجود واقعے کی کوئی ویڈیو بھی عدالت میں بطور ثبوت پیش نہیں کی گئی۔فیصلے کے مطابق مدعیہ نے اپنے بیان میں تسلیم کیا کہ واقعے کے دوران ان کے جسم پر کسی قسم کی جسمانی چوٹ نہیں آئی۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ سوشل میڈیا پر مبینہ ہراسانی سے متعلق لگائے گئے الزامات کی تائید میں بھی متعلقہ ڈیجیٹل یا دیگر شواہد پیش نہیں کیے جاسکے۔عدالت نے دستیاب شواہد، گواہوں کے بیانات اور استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے مقدمے سے بری کردیا۔سماعت کے دوران مدعیہ کی جانب سے وکیل سندر چاچڑ، ملزم کی جانب سے سکندر علی جونیجو جبکہ استغاثہ کی جانب سے اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر علی شیر چوہان عدالت میں پیش ہوئے۔واضح رہے کہ یہ مقدمہ جولائی 2023 میں درج کیا گیا تھا اور اس کے بعد پولیس تفتیش اور عدالتی کارروائی کا سلسلہ تقریباً تین سال جاری رہا، جس کے اختتام پر عدالت نے ملزم کے خلاف الزامات ثابت نہ ہونے پر اسے بری کردیا۔
40
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل