خصوصی رپورٹ۔۔۔
ڈیجیٹل دور میں ایک صحافی کا موبائل فون محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ عملی طور پر ایک مکمل ’’موبائل نیوز روم‘‘ بن چکا ہے۔ اس میں رپورٹر کے ذرائع کے نمبرز، واٹس ایپ اور سگنل چیٹس، ای میلز، تصاویر، ویڈیوز، آڈیو ریکارڈنگز، زیرِ تحقیق دستاویزات، لوکیشن ڈیٹا اور بعض اوقات ایسی غیر شائع شدہ معلومات بھی موجود ہوتی ہیں جو کسی بڑی تحقیقاتی خبر کا حصہ بن سکتی ہیں۔ ایسے میں جب کوئی تحقیقاتی ادارہ کسی صحافی کا فون ضبط کرتا ہے تو معاملہ صرف ایک الیکٹرانک ڈیوائس کی تحویل تک محدود نہیں رہتا بلکہ صحافتی ذرائع کی رازداری، پرائیویسی، ڈیجیٹل شواہد اور آزادیٔ صحافت کے کئی اہم سوالات جنم لیتے ہیں۔
پاکستان میں سائبر کرائم سے متعلق تحقیقات اب نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے ) کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔ 2025 میں ہونے والی ترامیم کے بعد پیکا کے تحت سائبر کرائم کی تحقیقات اور مقدمات سے متعلق اختیارات این سی سی آئی اے کو منتقل کیے گئے۔
کیا حکام کسی صحافی کا فون ضبط کرسکتے ہیں؟
قانونی طور پر کسی صحافی کا پیشہ اسے ہر قسم کی تفتیش سے مکمل استثنا نہیں دیتا۔ اگر کسی موبائل فون، کمپیوٹر یا دوسرے ڈیجیٹل آلے کے بارے میں یہ معقول بنیاد موجود ہو کہ اس میں کسی مخصوص جرم سے متعلق شواہد موجود ہیں تو تحقیقاتی ادارہ قانونی طریقہ کار کے تحت اسے تحویل میں لے سکتا ہے۔ پیکا ایکٹ کی دفعہ 33 کے تحت عمومی اصول یہ ہے کہ تفتیشی افسر عدالت کو مطمئن کرنے کے بعد سرچ یا ضبطی کا وارنٹ حاصل کرے۔ عدالت کو یہ بتایا جانا ضروری ہے کہ متعلقہ ڈیوائس یا ڈیٹا کسی مخصوص جرم کی تفتیش یا عدالتی کارروائی کے لیے کیوں ضروری ہے۔ صرف محدود ہنگامی حالات میں قانون بغیر پیشگی وارنٹ کارروائی کی اجازت دیتا ہے اور ایسی صورت میں بھی معاملہ 24 گھنٹے کے اندر عدالت کے علم میں لانا ضروری ہے۔
فون ضبط ہونے کے بعد کیا دیکھا جا سکتا ہے؟
موبائل تحویل میں لینے کے بعد ڈیجیٹل فرانزک کے ذریعے اس میں موجود متعلقہ معلومات کی جانچ کی جا سکتی ہے۔ ان میں پیغامات، تصاویر، ویڈیوز، ای میلز، کال لاگز، دستاویزات، سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے متعلق معلومات اور بعض حالات میں حذف شدہ ڈیٹا بھی شامل ہو سکتا ہے۔ تاہم پیکا ایکٹ تفتیشی افسر کو غیر محدود اختیار نہیں دیتا۔ قانون کے مطابق افسر کو صرف تفتیش سے متعلق ڈیٹا حاصل یا نقل کرنا چاہیے، کارروائی متناسب ہونی چاہیے اور ایسے ڈیٹا یا سسٹمز میں بلاوجہ مداخلت نہیں ہونی چاہیے جن کا زیرِ تفتیش جرم سے تعلق نہ ہو۔ قانون ڈیجیٹل شواہد کی سالمیت، رازداری اور chain of custody برقرار رکھنے پر بھی زور دیتا ہے۔
یہ فرق صحافی کے معاملے میں خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس کے فون میں زیرِ تفتیش معاملے کے علاوہ درجنوں دوسرے ذرائع اور اسٹوریز سے متعلق حساس معلومات موجود ہو سکتی ہیں۔
سب سے بڑا خطرہ: صحافتی ذرائع کی شناخت
صحافیوں کے لیے فون ضبط ہونے کا سب سے حساس پہلو خفیہ ذرائع کا سامنے آنا ہے۔
کسی تحقیقاتی صحافی کے فون میں ایسے سرکاری افسران، اداروں کے اندر موجود افراد، وِسل بلورز یا دیگر ذرائع کے رابطے موجود ہوسکتے ہیں جنہوں نے صرف اس یقین پر معلومات فراہم کی ہوں کہ ان کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔ اگر پورے فون تک رسائی مل جائے تو محض کسی ذریعے کا نام محفوظ نہ ہونے کے باوجود کال ریکارڈ، میسجنگ ہسٹری، تصاویر، ای میل، لوکیشن یا میٹا ڈیٹا سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صحافی کس شخص سے رابطے میں تھا۔
اسی وجہ سے صحافیوں کے ڈیجیٹل آلات کی ضبطی کو دنیا بھر میں صرف ’’evidence collection‘‘ نہیں بلکہ source protection کا مسئلہ بھی سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان کے Protection of Journalists and Media Professionals Act, 2021 میں صحافی کے حقِ رازداری کے ساتھ اس کی الیکٹرانک خط و کتابت کو بھی تحفظ دیا گیا ہے۔ قانون یہ بھی کہتا ہے کہ کسی صحافی کو قانونی طریقہ کار کے بغیر اپنے ذرائع ظاہر کرنے پر مجبور یا دباؤ کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے اور ریاست صحافتی ذرائع کی رازداری کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گی۔
کیا پورا فون قبضے میں رکھنا ضروری ہے؟
PECA میں ایک اہم اصول یہ بھی موجود ہے کہ پوری ڈیوائس کو ضبط کرنا آخری حل ہونا چاہیے۔ اگر مطلوبہ الیکٹرانک شواہد کو ایسے تکنیکی طریقے سے محفوظ کیا جا سکتا ہو جس سے اصل ڈیوائس ضبط کرنے کی ضرورت نہ پڑے تو قانون تفتیشی افسر کو اس امکان کو مدنظر رکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ تفتیش کے ساتھ ساتھ کسی شخص کے جائز کاروبار یا پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں غیر ضروری خلل پیدا نہ ہو۔
صحافی کے لیے یہ معاملہ اس لیے زیادہ سنگین ہو سکتا ہے کیونکہ موبائل فون ضبط ہونے کے بعد وہ اپنے ذرائع، نیوز روم، ایڈیٹرز اور زیرِ تحقیق اسٹوریز تک فوری رسائی کھو سکتا ہے اور اس کی روزمرہ رپورٹنگ عملاً متاثر ہوسکتی ہے۔
ضبط شدہ فون کا ریکارڈ رکھنا بھی ضروری
PECA کی دفعہ 36 کے مطابق کسی ڈیٹا یا انفارمیشن سسٹم کو قبضے میں لینے والے افسر کو ضبط کی گئی اشیا کی فہرست تیار کرنا ہوتی ہے جس میں تاریخ اور وقت بھی درج ہونا چاہیے جبکہ متعلقہ شخص کو اس فہرست کی نقل فراہم کیے جانے کا طریقہ بھی قانون میں موجود ہے۔
قانون مخصوص حالات میں مالک کو ضبط شدہ ڈیٹا کی forensic image حاصل کرنے کے لیے درخواست دینے کا حق بھی دیتا ہے۔ اگر تفتیشی ادارہ سمجھتا ہے کہ اس کی فراہمی سے تحقیقات متاثر ہوں گی تو اسے عدالت سے رجوع کرنا پڑ سکتا ہے۔
ضبط شدہ ڈیٹا لیک ہوجائے تو؟
صحافیوں کے لیے ایک اور بڑا خدشہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے فون سے حاصل شدہ مواد کہیں غیر متعلقہ افراد تک نہ پہنچ جائے۔
PECA تحقیقاتی افسر پر ضبط شدہ معلومات کی رازداری برقرار رکھنے کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ دفعہ 41 کے تحت ذاتی معلومات تک قانونی رسائی حاصل کرنے کے بعد انہیں غیر قانونی طور پر کسی دوسرے شخص کو فراہم کرنا، مخصوص حالات میں، قابلِ سزا عمل ہوسکتا ہے۔ قانون کے تحت ایسے معاملے میں تین سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ممکن ہیں۔
حالیہ پاکستانی واقعات نے سوالات مزید نمایاں کردیے
پاکستان میں حالیہ مہینوں کے دوران بھی ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں صحافیوں کی گرفتاری یا پوچھ گچھ کے ساتھ ڈیجیٹل آلات قبضے میں لیے گئے۔
مئی 2026 میں صحافی حماد حسن نے الزام لگایا تھا کہ ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے سلسلے میں NCCIA اہلکار انہیں دفتر لے گئے اور ان کا موبائل فون تحویل میں لے لیا۔ اسی طرح صحافی رضی طاہر سے متعلق کارروائیوں اور بعد ازاں ان کے دفتر پر مبینہ چھاپے کے دوران کمپیوٹرز اور دیگر سامان قبضے میں لیے جانے کے الزامات سامنے آئے۔ ان واقعات نے پاکستان میں ڈیجیٹل تحقیقات، قانونی طریقہ کار اور صحافتی ذرائع کے تحفظ سے متعلق بحث کو مزید نمایاں کیا۔
فون کی ضبطی صرف ایک صحافی کا مسئلہ کیوں نہیں؟
میڈیا ماہرین کے نزدیک اگر کسی ذریعے کو یہ خدشہ ہو کہ صحافی سے کی گئی اس کی خفیہ گفتگو کسی وقت تحقیقاتی اداروں کے ہاتھ لگ سکتی ہے تو وہ مستقبل میں معلومات فراہم کرنے سے گریز کرسکتا ہے۔
اسے صحافت میں chilling effect کہا جاتا ہے، یعنی ایسا ماحول جس میں قانونی یا نگرانی کے خدشے کی وجہ سے صحافی اور ان کے ذرائع خود ہی حساس موضوعات پر بات کرنے یا رپورٹنگ کرنے سے محتاط ہونے لگیں۔
اس کا اثر صرف متعلقہ صحافی پر نہیں بلکہ تحقیقاتی صحافت، وِسل بلورز اور عوام کے حقِ معلومات پر بھی پڑ سکتا ہے۔
تفتیش اور آزادیٔ صحافت کے درمیان توازن
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مؤقف عمومی طور پر یہ ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل آلات جرائم کی تحقیقات میں اہم شواہد فراہم کرسکتے ہیں اور صحافتی حیثیت کسی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں بناتی۔ دوسری جانب صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ایسی کارروائی قانونی، ضروری، متناسب اور عدالتی نگرانی کے تحت ہونی چاہیے تاکہ کسی ایک مقدمے کی تحقیقات کے نام پر صحافی کے تمام ذرائع اور غیر متعلقہ ڈیٹا تک رسائی نہ حاصل کی جائے۔اصل سوال اس لیے یہ نہیں کہ ’’کیا صحافی کا فون کبھی ضبط کیا جا سکتا ہے؟‘‘ بلکہ یہ ہے کہ کس قانونی بنیاد پر، کس حد تک، کس ڈیٹا کے لیے اور کن حفاظتی اقدامات کے ساتھ اسے ضبط اور جانچا جا رہا ہے۔
ڈیجیٹل صحافت کے دور میں یہی باریک فرق ایک جائز تفتیش اور آزادیٔ صحافت، پرائیویسی اور ذرائع کی رازداری میں غیر ضروری مداخلت کے درمیان حد متعین کرتا ہے۔ (خصوصی رپورٹ)۔۔۔
12