صحافی کا نام فورتھ شیڈول میں ڈالنا آزادی اظہار پر خطرناک حملہ قرار۔۔ 29

صحافی کا نام فورتھ شیڈول میں ڈالنا آزادی اظہار پر خطرناک حملہ قرار۔۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے)کے صدر افضل بٹ و سیکرٹری جنرل ارشد انصاری نے آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے صحافی، مصنف اور تجزیہ کار دانش ارشاد کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت، بنیادی انسانی حقوق اور جمہوری اقدار پر کھلا حملہ قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ کے 29 جولائی 2026 کے نوٹیفکیشن نمبر Home/HS-FS-4(8)/P-H/2026 کے ذریعے ایک ایسے صحافی کو انسدادِ دہشت گردی کے قانون کی فورتھ شیڈول میں شامل کرنا، جو قلم، تحقیق اور پیشہ ورانہ صحافت سے وابستہ ہے، نہ صرف انتہائی تشویش ناک بلکہ پورے ملک کی صحافی برادری کے لیے سنگین خطرے کی گھنٹی ہے۔انہوں نے کہا کہ دانش ارشاد کے خلاف اگر کوئی ٹھوس الزام، قابلِ اعتماد ثبوت یا قابلِ گرفت قانونی معاملہ موجود ہے تو اسے سامنے لایا جائے اور انہیں قانون کے مطابق صفائی اور شفاف سماعت کا حق دیا جائے۔ محض کسی صحافی کے خیالات، تجزیوں، رپورٹنگ، عوامی معاملات پر گفتگو یا آزاد کشمیر کی صورت حال پر اس کے موقف کی بنیاد پر اسے دہشت گردی کے شبے میں زیرِ نگرانی افراد کی فہرست میں شامل کرنا ناقابلِ قبول ہے۔پی ایف یو جے کے عہدیداروں نے کہا کہ پاکستان میں صحافی پہلے ہی مقدمات، ایف آئی اے اور دیگر اداروں کے نوٹسز، گرفتاریوں، ہراسانی اور جبری برطرفیوں کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، ان حالات میں دانش ارشاد کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کرکے صحافت دشمنی کا ایک نیا اور خطرناک دروازہ کھول دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مطلب یہ پیغام دینا ہے کہ اب صحافیوں کو خاموش کرانے کے لیے صرف پرچے، نوٹسز اور گرفتاریاں کافی نہیں سمجھی جائیں گی بلکہ انہیں براہِ راست دہشت گردی سے متعلق فہرستوں میں بھی شامل کیا جا سکے گا۔افضل بٹ اور ارشد انصاری نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ’آج دانش ارشاد کو نشانہ بنایا گیا ہے، کل کسی بھی صحافی، لکھاری، کالم نگار، اینکر یا انسانی حقوق کی آواز بلند کرنے والے فرد کو اسی بنیاد پر فورتھ شیڈول میں ڈالا جا سکتا ہے۔ اگر اس راستے کو ابھی بند نہ کیا گیا تو یہ صحافت کو جرم اور اختلافِ رائے کو دہشت گردی قرار دینے کی مستقل روایت بن جائے گا۔ پی ایف یو جے نے وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں اور اس اقدام کے ذمہ دار عناصر کا تعین کرکے انہیں جواب دہ بنائیں۔پی ایف یو جے کی قیادت نے واضح کیا کہ متعلقہ حکومتی شخصیات محض خاموش تماشائی بن کر اس معاملے سے بری الذمہ نہیں ہو سکتیں۔ انہیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ آزادیٔ اظہار، آئین اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں یا اس سوچ کے ساتھ جو سوال اٹھانے والے صحافی کو دہشت گرد بنا کر پیش کرنا چاہتی ہے۔ یہ محض دانش ارشاد کا مقدمہ نہیں، پاکستان اور آزاد کشمیر میں صحافت کے مستقبل کا مقدمہ ہے۔ پی ایف یو جے نے مطالبہ کیا کہ دانش ارشاد کے خلاف جاری نوٹیفکیشن فوری واپس لیا جائے، ان کا نام تمام متعلقہ واچ لسٹس سے خارج کیا جائے، ان کی آزادانہ نقل و حرکت، پیشہ ورانہ سرگرمیوں اور مالی معاملات پر ممکنہ پابندیاں ختم کی جائیں اور آئندہ کسی صحافی کو اس کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں، تحریر یا رائے کی بنیاد پر فورتھ شیڈول میں شامل نہ کرنے کی واضح ضمانت دی جائے۔پی ایف یو جے کے صدر اور سکریٹری نے خبردار کیا کہ اگر اس فیصلے کو فوری واپس نہ لیا گیا تو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ملک بھر کی صحافتی تنظیموں، پریس کلبوں، انسانی حقوق کے اداروں اور وکلاء برادری سے مشاورت کرکے بھرپور احتجاجی اور قانونی لائحۂ عمل اختیار کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ’قلم کو دہشت گردی سے جوڑنے کا یہ دروازہ فوری بند کیا جائے۔ صحافت جرم نہیں، صحافی دہشت گرد نہیں، اور اختلافِ رائے ریاست دشمنی نہیں۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں