تحریر: آصف علی سید
پاکستان میں صحافت اور صحافیوں پر آج جو برا وقت آیا ہوا ہے، شاید کسی مارشل لا دور میں بھی صحافتی برادری نے اس نوعیت کے حالات کا سامنا نہ کیا ہو۔
ملک بھر میں عوام کے حقوق، ان پر ہونے والے مظالم، ناانصافیوں اور زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے صحافی آج خود بدترین مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ صحافیوں کی آواز سننے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے موجود متعدد ادارے بھی جیسے آنکھیں اور کان بند کیے بیٹھے ہیں۔
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے جنگل کا قانون نافذ ہو، جس کا جو دل چاہ رہا ہے وہ کررہا ہے۔
کبھی صحافیوں کو بغیر اطلاع اور نوٹس کے گرفتار کیا جارہا ہے، کبھی بغیر کسی پیشگی نوٹس کے ملازمتوں سے نکالا جارہا ہے، کبھی اپنے حق میں آواز اٹھانے کے جرم میں آف ایئر کردیا جاتا ہے اور کبھی قلم پر ہی پابندی لگا دی جاتی ہے۔
ان تمام مشکلات اور مصائب کے باوجود صحافی اپنا کام کررہے ہیں۔
صحافی اپنے اداروں کی پالیسی پر عمل کررہے ہیں، مالکان کے احکامات بجا لارہے ہیں، وقت پر خبریں دے رہے ہیں، رپورٹس تیار کررہے ہیں اور چینلز کی اسکرینیں بھرنے کے لیے دن رات محنت کررہے ہیں۔
لیکن۔۔۔سوال یہ ہے کہ جب خبر اور کام وقت پر چاہیے تو تنخواہ بھی وقت پر کیوں نہیں دی جاتی؟
یہ سوال میڈیا مالکان سے ہے۔
کیا میڈیا مالکان اتنے غریب ہیں کہ ان کے پاس بھی دو وقت کی روٹی کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں؟کیا میڈیا مالکان کے بچوں کو بھی اسکول کی فیس ادا نہ ہونے پر اسکول سے نکالا جارہا ہے؟کیا ان کے گھروں کی بجلی بھی بل ادا نہ ہونے کی وجہ سے کاٹ دی گئی ہے؟کیا ان کے گھروں میں راشن ختم ہوچکا ہے؟
جواب ہے۔۔۔ بالکل نہیں۔
بلکہ صورتحال اس کے برعکس ہے۔
میڈیا مالکان دو نہیں، تین وقت کی روٹی بھی فائیو اسٹار ہوٹلوں میں کھا رہے ہیں۔ان کے بچے نہ صرف تعلیم حاصل کررہے ہیں بلکہ کئی بچے بیرون ملک مہنگے تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں۔ان کے گھروں کے بجلی، گیس اور پانی کے بل بھی ادا ہورہے ہیں اور متبادل ذرائع توانائی بھی نصب ہیں۔
پھر سوال یہ ہے کہ مسئلہ کہاں ہے؟
وفاقی اور صوبائی حکومتیں میڈیا مالکان کو ادائیگیاں نہیں کررہیں؟ہاں، بعض اوقات سرکاری اشتہارات کی ادائیگیاں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں اور موجودہ صورتحال میں بھی ادائیگیوں کے رکنے یا تاخیر کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔
لیکن سرکاری اشتہارات کی ادائیگی کا ایک طریقہ کار موجود ہے، جس کے تحت میڈیا مالکان کو مخصوص وقفوں سے ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ یہ ادائیگیاں بھی کروڑوں روپے میں ہوتی ہیں۔
اور یہ تو صرف سرکاری اشتہارات کی بات ہے۔نجی اشتہارات اس کے علاوہ ہیں۔
ٹی وی اسکرینوں پر نجی اشتہارات کی بھرمار دیکھ کر تو بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اشتہارات کے درمیان خبریں سنادی جاتی ہیں۔
اگر اشتہارات اتنے زیادہ ہیں تو پھر صحافیوں کی تنخواہیں کیوں نہیں؟
یہی وہ سوال ہے جس کا جواب آج میڈیا مالکان کو دینا چاہیے۔
ذرا غور کیجیے، کون کون سے میڈیا ادارے اس وقت اپنے ملازمین کو بروقت تنخواہیں ادا نہیں کررہے اور اس کی اصل وجوہات کیا ہیں؟
کچھ ٹی وی چینلز ایسے بھی ہیں جو مخصوص ایجنڈے کے تحت شروع کیے گئے۔ ایک عرصے تک ان چینلز پر مخصوص بیانیہ چلایا گیا اور اس مقصد کے لیے مبینہ طور پر خطیر رقوم خرچ کی گئیں۔
پھر وقت بدلا، مقاصد تبدیل ہوئے اور وہ مالی معاونت بھی ختم ہوگئی۔
مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی ادارے کو طویل عرصے تک بغیر کسی واضح کاروباری بنیاد کے بڑی رقوم ملتی رہیں تو اس کے مالکان کو اس طرز زندگی اور اخراجات کی عادت ہوجاتی ہے۔
جب وہ آمدنی کا ذریعہ ختم ہوتا ہے تو پھر مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
کبھی حکومت کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے، کبھی اشتہارات کی ادائیگیوں کا رونا رویا جاتا ہے اور کبھی حالات کو جواز بنایا جاتا ہے۔
ملازمین سے کہا جاتا ہے:"پیسے آئیں گے تو تنخواہیں مل جائیں گی۔"
لیکن یہاں بھی ایک سوال ہے۔
اگر ادارے کے پاس پیسہ نہیں تو پھر ادارے کے دوسرے تمام اخراجات کیسے جاری ہیں؟کیا آپ میں سے کسی نے دیکھا ہے کہ تنخواہیں رکنے کے ساتھ ساتھ ادارے کے باقی کام بھی رک گئے ہوں؟
اکثر ایسا نہیں ہوتا۔
چینل کی سیٹلائٹ فیس باقاعدگی سے ادا کی جارہی ہے۔لائسنس فیس ادا ہورہی ہے۔دفتر کے بجلی کے بل ادا ہورہے ہیں۔انٹرنیٹ کے بل ادا ہورہے ہیں۔دفتر میں چائے کے لیے دودھ، پتی اور چینی بھی باقاعدگی سے آرہی ہے۔گاڑیوں میں پیٹرول بھی ڈلوایا جارہا ہے۔دفتر کا کمپیوٹر خراب ہوجائے تو اسے فوری ٹھیک کروایا جاتا ہے۔کیمرے میں مسئلہ آجائے تو اس کی مرمت کرائی جاتی ہے۔گاڑی خراب ہوجائے تو ورکشاپ بھیج دی جاتی ہے۔
یعنی چینل چلانے کے لیے پیسہ موجود ہے۔تو پھر سوال یہ ہے کہ ان تمام اخراجات کے لیے لاکھوں روپے کہاں سے آرہے ہیں؟اگر ادارہ چلانے کے لیے رقم موجود ہے تو اس ادارے کو چلانے والے انسانوں کی تنخواہیں کیوں نہیں ہیں؟کیا ادارے کے لیے مشینیں اہم ہیں اور مشینیں چلانے والے انسان غیر اہم؟کیا کیمرہ خراب ہوجائے تو فوراً ٹھیک ہونا چاہیے لیکن کیمرے کے پیچھے کھڑا صحافی مہینوں اپنی تنخواہ کا انتظار کرتا رہے؟کیا سیٹلائٹ فیس کی ادائیگی ضروری ہے لیکن صحافی کے گھر کا بجلی کا بل ضروری نہیں؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب دیا جانا چاہیے۔
بدقسمتی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض میڈیا مالکان کے لیے ادارہ اور اس کی مشینری اہم ہے، مگر وہ لوگ جو اس پورے نظام کو چلا رہے ہیں، ان کے مسائل ترجیح نہیں۔
اور اگر یہ ایک مشترکہ پالیسی نہیں تو پھر اتنے زیادہ صحافی ایک جیسے مسائل کا شکار کیوں ہیں؟
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ایسے میڈیا ادارے جو کسی مخصوص ایجنڈے کا حصہ نہیں ہیں اور محدود وسائل میں کام کررہے ہیں، ان میں سے بعض اپنے ملازمین کو باقاعدگی سے تنخواہیں ادا کررہے ہیں۔
تو پھر مسئلہ صرف مالی بحران کا نہیں ہوسکتا۔
مسئلہ ترجیحات کا بھی ہوسکتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ میڈیا مالکان سے پوچھے گا کون؟
صحافتی تنظیمیں موجود ہیں۔یونینیں موجود ہیں۔صحافتی ادارے موجود ہیں۔
لیکن جب کسی صحافی کی کئی کئی ماہ کی تنخواہ رک جاتی ہے تو اس کے گھر کا چولہا کون جلاتا ہے؟اس کے بچوں کی فیس کون ادا کرتا ہے؟اس کا کرایہ کون دیتا ہے؟اس کے بجلی اور گیس کے بل کون بھرتا ہے؟
صحافتی تنظیموں کی ذمہ داری صرف انتخابات، اجلاسوں اور بیانات تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔
اگر کوئی تنظیم صحافیوں کے حقوق کی نمائندگی کرتی ہے تو اسے صحافیوں کی تنخواہوں اور ملازمت کے تحفظ کے معاملات پر بھی مؤثر آواز اٹھانی چاہیے۔
اور صحافتی تنظیموں کی قیادت سے بھی یہ سوال ضرور ہونا چاہیے کہ اگر وہ صحافیوں کے حقوق کی جنگ لڑنے کے دعوے دار ہیں تو پھر ان کے اپنے کارکن مالی مشکلات میں کیوں ہیں؟
اگر کوئی شخص خود کو مزدوروں اور صحافیوں کا نمائندہ قرار دیتا ہے تو اسے اپنے کارکنوں کے سامنے جواب دہ بھی ہونا چاہیے۔
صحافی کسی کے احسان پر کام نہیں کرتا۔وہ اپنی محنت، وقت، صلاحیت اور زندگی کا قیمتی حصہ کسی ادارے کو دیتا ہے۔
اس کے بدلے تنخواہ اس کا حق ہے، خیرات نہیں۔لہٰذا صحافیوں کو بھی اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ہوگی۔اپنی تنخواہ مانگنا جرم نہیں۔اپنی محنت کا معاوضہ طلب کرنا بغاوت نہیں۔اپنے بچوں کے لیے روٹی، تعلیم اور بہتر زندگی مانگنا کوئی غلط بات نہیں۔
صحافیوں کو چاہیے کہ وہ قانونی، پُرامن اور منظم انداز میں اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوں اور اپنے اداروں سے سوال کریں کہ:
"اگر ہم سے ہمارا کام وقت پر لیا جاتا ہے تو ہماری تنخواہ وقت پر کیوں نہیں دی جاتی؟"
اور اگر کسی میڈیا ادارے کے پاس واقعی مالی بحران ہے تو پھر اس بحران کی شفاف تفصیلات بھی سامنے آنی چاہئیں۔
آمدنی کتنی ہے؟اخراجات کتنے ہیں؟اشتہارات سے کتنی رقم آرہی ہے؟سرکاری واجبات کتنے ہیں؟نجی اشتہارات کی وصولیاں کتنی ہیں؟اور ملازمین کی تنخواہیں آخر کیوں رکی ہوئی ہیں؟
صحافیوں کو صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ "پیسے نہیں ہیں۔"
کیونکہ جب پورا ادارہ چل رہا ہو تو یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ پیسے صرف صحافی کی تنخواہ کے وقت ہی کیوں ختم ہوجاتے ہیں؟
بات پھر وہیں آکر رک جاتی ہے۔
صحافت کا پہیہ صرف کیمروں، کمپیوٹروں، گاڑیوں، سیٹلائٹ اور اسٹوڈیوز سے نہیں چلتا۔
اس پورے نظام کے پیچھے انسان کھڑے ہیں۔
وہ انسان جنہیں صحافی کہا جاتا ہے۔
اور اگر یہی صحافی اپنے گھروں میں پریشان، اپنے بچوں کی فیس کے لیے فکرمند، بجلی کے بل کے لیے پریشان اور کئی کئی ماہ کی تنخواہوں کے منتظر ہوں تو پھر یہ صرف صحافی کا مسئلہ نہیں۔
یہ پورے صحافتی نظام کا مسئلہ ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ میڈیا مالکان اور حکومتیں اس سوال کا جواب دیں:
صحافی اپنا کام وقت پر کررہا ہے تو اس کی تنخواہ وقت پر کیوں نہیں؟(آصف علی سید)۔۔۔
26