آزاد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے صحافی، شاعر اور انسانی حقوق کے کارکن احمد فرہاد کی طویل حراست کے دوران طبیعت بگڑنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ احمد فرہاد نے حراست کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے اور 48 گھنٹے گزرنے کے بعد ان کی صحت تیزی سے متاثر ہورہی ہے، جبکہ ان کے اہم طبی اشاریے بھی مبینہ طور پر کم ہورہے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی تصدیق کرنے والی کوئی آزاد میڈیکل رپورٹ تاحال سامنے نہیں آئی۔ احمد فرہاد کی اہلیہ عروج زینب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے شوہر کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ 21 اگست کو احمد فرہاد کی حراست کا 62واں روز تھا۔ ان کے مطابق مسلسل بھوک ہڑتال کے باعث ان کی جسمانی حالت خراب ہو رہی ہے اور خاندان کو ان کی صحت اور سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں۔ اہلیہ کی جانب سے شیئر کیے گئے بیان کے مطابق احمد فرہاد نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ اگر انہیں رہا نہیں کیا جا رہا تو کم از کم انہیں براہ راست ان افراد کے حوالے کردیا جائے جن کے حکم پر انہیں قید رکھا گیا ہے۔ اس بیان کے بعد صحافتی حلقوں اور انسانی حقوق سے وابستہ افراد میں ان کی حراست اور صحت کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ سینئر صحافی ایثار رانا اور صحافی شاکر اعوان سمیت مختلف صحافتی آوازوں نے احمد فرہاد کی طویل حراست پر سوالات اٹھاتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اہلِ خانہ کی جانب سے شیئر کیے گئے مواد میں دونوں صحافیوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ احمد فرہاد کی حراست ختم کی جائے اور ان کی بگڑتی ہوئی صحت کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ دوسری جانب تازہ اطلاعات تک متعلقہ حکام کی جانب سے احمد فرہاد کی بھوک ہڑتال، ان کی مبینہ خراب صحت یا خاندان کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر کوئی تفصیلی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔واضح رہے کہ احمد فرہاد کو بیس اور اکیس جون کی درمیانی شب کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ راولا کوٹ میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کی کوریج کے بعد واپس باغ جارہے تھے۔۔احمد فرہاد کا موجودہ معاملہ ان سے متعلق پہلا متنازع حراستی واقعہ نہیں ہے۔ مئی 2024 میں وہ اسلام آباد میں اپنے گھر سے لاپتا ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے بعد ان کی اہلیہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور ان کی بازیابی کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔ تقریباً دو ہفتے بعد 29 مئی 2024 کو حکام نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو بتایا تھا کہ احمد فرہاد آزاد کشمیر پولیس کی تحویل میں موجود ہیں۔ بعد ازاں ان کے خلاف سرکاری اہلکار کے کام میں رکاوٹ ڈالنے، غیر قانونی اجتماع اور انسداد دہشت گردی سے متعلق دفعات کے تحت مقدمات سامنے آئے تھے۔
8
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل