تحریر: شاہد غزالی
آج 2 نومبر کو دنیا بھر میں صحافیوں کے خلاف جرائم پر جواب دہی اور سزا سے استثنا کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ نے یہ دن صحافیوں پر حملوں، قتل اور تشدد کے مرتکب افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت اجاگر کرنے کے لیے مقرر کیا۔ لیکن پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں حق اور سچ لکھنے والے صحافی آج بھی عدم تحفظ، دباؤ، مقدمات اور جان لیوا حملوں کا سامنا کررہے ہیں۔
پاکستان میں آزادیٔ صحافت کو درپیش مسائل میں قانونی دباؤ، سنسرشپ، معاشی مشکلات، دھمکیاں اور صحافیوں کے قتل کے مقدمات میں انصاف کی تاخیر نمایاں ہیں۔ پیکا ایکٹ میں 2025ء کی ترامیم اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے ذریعے ہونے والی کارروائیوں پر صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ صحافیوں کا بنیادی مطالبہ ہے کہ سائبر قوانین کا استعمال حقیقی جرائم کی روک تھام کے لیے ہو، نہ کہ تنقیدی صحافت اور اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے۔
پاکستان میں شہید صحافیوں کے اعدادوشمار
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) کے ڈیٹا بیس کے مطابق 1992ء سے 2025ء تک پاکستان میں صحافت سے متعلقہ خطرات کے دوران 106 صحافیوں کے قتل کے واقعات اس کے ریکارڈ میں شامل ہیں۔ یہ تعداد CPJ کے اپنے تحقیقی معیار کے مطابق ہے؛ دیگر تنظیموں کے اعدادوشمار مختلف ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کے ریکارڈ، مدت اور قتل کو صحافت سے منسلک قرار دینے کے معیار یکساں نہیں۔
حکومتوں کی جانب سے قوانین کی منظوری،
کمیشنوں کے قیام کی کوششوں اور بعض واقعات کی تحقیقات جیسے اقدامات ضرور ہوئے ہیں، لیکن اصل کامیابی کا پیمانہ اعلانات نہیں بلکہ نتائج ہیں۔ اگر کسی صحافی کو قتل کرنے والے گرفتار نہ ہوں، مقدمہ برسوں چلتا رہے اور اہلِ خانہ انصاف کے لیے دربدر ہوں تو تحفظ کے دعوے بے معنی ہوجاتے ہیں۔
2 نومبر منانے کا اصل مقصد
اس دن کو صرف سیمینار، قراردادوں اور بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ضرورت ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کے قتل کے تمام مقدمات کا جائزہ لیا جائے، غیر حل شدہ مقدمات کی تحقیقات تیز ہوں، گواہوں اور متاثرہ خاندانوں کو تحفظ دیا جائے اور صحافیوں کے تحفظ کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
حکومت، عدلیہ، پولیس، میڈیا مالکان اور صحافتی تنظیموں کو مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ پیکا سمیت تمام قوانین کو آئینی آزادیٔ اظہار، شفافیت اور منصفانہ قانونی کارروائی کے اصولوں کے مطابق نافذ کیا جائے۔ صحافیوں کو محفوظ ماحول، بروقت تنخواہوں، قانونی معاونت اور خطرے کی صورت میں فوری تحفظ کی سہولت بھی فراہم ہونی چاہیے۔
یاد رکھیے، صحافی کا قتل صرف ایک فرد کا قتل نہیں، عوام تک سچ پہنچانے کے حق پر حملہ ہے۔ جب تک قاتلوں کو سزا، متاثرہ خاندانوں کو انصاف اور صحافیوں کو خوف سے آزاد ہوکر کام کرنے کا حق نہیں ملتا، 2 نومبر کا مقصد ادھورا رہے گا۔(شاہد غزالی)۔۔
17