خصوصی رپورٹ۔۔۔
سینئر صحافیوں، اینکر پرسنز، صحافتی یونینوں کے نمائندوں، سیاسی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے پاکستان میں آزادیٔ اظہار کے تحفظ، صحافتی یونینوں کو مضبوط بنانے اور شہری آزادیوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے لیے ایک مشترکہ اتحاد قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔شرکاء نے خبردار کیا کہ سنسرشپ، قانونی ہراسانی، معاشی عدم تحفظ اور ڈیجیٹل مواصلات پر پابندیوں کے باعث ملک بھر میں آزاد صحافت شدید متاثر ہو رہی ہے۔یہ مطالبہ ’’آزادیٔ اظہار کے محافظوں کو کس طرح مضبوط بنایا جائے تاکہ اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے گنجائش بڑھائی جا سکے؟‘‘ کے عنوان سے منعقدہ گول میز کانفرنس میں کیا گیا۔کانفرنس کی نظامت سینئر صحافی منیزے جہانگیر نے کی، جبکہ صدارت سینئر صحافی ناصر زیدی نے کی۔
حامد میر کا آزادیٔ اظہار پر پابندیوں سے متعلق وائٹ پیپر تیار کرنے کا مطالبہ
سینئر اینکر پرسن حامد میر نے کہا کہ ملک کے مختلف صوبوں اور علاقوں سے آنے والے صحافیوں کی جانب سے بیان کردہ حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آزادیٔ اظہار پر طویل عرصے سے پابندیاں عائد ہیں۔انہوں نے کہا کہ پابندیاں عائد کرنے والے قوانین متعارف کرانے اور منظور کرنے میں سیاسی جماعتوں کے کردار کو دستاویزی شکل میں محفوظ کرنا ضروری ہے۔حامد میر کے مطابق پیکا (PECA) کے تحت تقریباً 500 مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں سے 35 مقدمات صحافیوں کے خلاف ہیں، تاہم ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔انہوں نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو منظم کرنے کے لیے مجوزہ بل کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت ان کے بقول بچوں کی خلاف ورزیوں پر والدین کو سزا دینے کی تجویز موجود ہے۔حامد میر نے آزادیٔ اظہار پر پابندیوں اور ایسے قوانین کی تشکیل میں سیاسی جماعتوں کے کردار سے متعلق وائٹ پیپر تیار کرنے کی تجویز پیش کی۔
مجیب الرحمان شامی کا قوانین پر مؤثر عمل درآمد کا مطالبہ
سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ صرف قوانین کی کمی نہیں بلکہ موجودہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد کا فقدان بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ یکے بعد دیگرے نئے قوانین تو بنائے جاتے ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد کمزور رہتا ہے۔انہوں نے متعلقہ قوانین، ان پر عمل درآمد اور آزادیٔ اظہار پر مرتب ہونے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک جامع دستاویز تیار کرنے کی تجویز دی۔
سہیل وڑائچ کا سیاسی جماعتوں سے واضح مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ
سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہا کہ آزادیٔ اظہار کے بنیادی حق کے تحفظ کی ذمہ داری پورے معاشرے پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ آزادیٔ اظہار کی بحالی کے لیے سیاسی جماعتوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو واضح طور پر بتانا ہوگا کہ وہ اس اصول کے حامی ہیں یا نہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام سیاسی اور سماجی فورمز پر آزادیٔ اظہار کے حوالے سے اپنا مؤقف کھل کر پیش کیا جائے اور عملی اقدامات بھی اعلانیہ مؤقف کے مطابق ہوں۔
نجم سیٹھی کی میڈیا اداروں کے کردار پر تنقید
سینئر صحافی نجم سیٹھی نے کہا کہ سیاسی جماعتیں آزادیٔ اظہار کی مضبوط حامی نہیں ہیں اور عوام کے حقوق کے تحفظ میں ناکام ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ خود سنسرشپ کے باعث صحافت کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ جب صحافی خود خبریں روکنے سے انکار کرتے ہیں تو میڈیا مالکان پابندیاں عائد کر دیتے ہیں۔موجودہ صورتحال کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ادارے وسیع صحافتی مقاصد کے بجائے محدود ایجنڈے کے تحت اپنی بقا کو ترجیح دے رہے ہیں۔نجم سیٹھی کے مطابق پابندیوں کے خلاف مسلسل احتجاج مزاحمت کے چند دستیاب راستوں میں سے ایک ہے، تاہم یہ اسی صورت کامیاب ہو سکتا ہے جب صحافی اور ان کی تنظیمیں اختلافات ختم کرکے مشترکہ اتحاد کا مظاہرہ کریں۔
اسماء شیرازی کا خواتین صحافیوں کو آن لائن ہراساں کرنے پر اظہارِ تشویش
سینئر صحافی اسماء شیرازی نے کہا کہ پیکا جیسے قوانین نہ تو صحافیوں کو دبانے اور آزادیٔ اظہار محدود کرنے کے لیے بنائے جانے چاہییں اور نہ ہی انہیں اس مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے بالخصوص خواتین کو آن لائن ٹرولنگ اور ہراساں کیے جانے پر تشویش ظاہر کی۔ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی بدسلوکی کو اکثر معمولی جرم سمجھا جاتا ہے، حالانکہ اس کے باعث بہت سی خواتین سوشل میڈیا چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رہا اور میڈیا تنظیمیں خاموش رہیں تو خواتین مکمل طور پر آن لائن دنیا سے باہر ہونے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔
عارفہ نور کا صحافیوں کے خلاف زیادتیوں کا ریکارڈ مرتب کرنے پر زور
سینئر صحافی اور ایڈیٹر عارفہ نور نے کہا کہ صحافیوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں اور میڈیا پر عائد سنسرشپ کو دستاویزی شکل میں محفوظ کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ آزادیٔ اظہار کی خلاف ورزیوں سے متعلق منظم دستاویزی ریکارڈ کی کمی ہے، جسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔گول میز کانفرنس میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی منتخب صحافتی یونینوں نے شرکت کی۔کانفرنس کا مقصد آزادیٔ اظہار کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لینا اور صحافیوں کے تحفظ اور شہری آزادیوں کے دفاع کے لیے عملی اقدامات تجویز کرنا تھا۔
بلوچستان میں صحافیوں کو دھمکیاں اور معاشی بحران
بلوچستان کی صورتحال بیان کرتے ہوئے سینئر صحافی سلیم شاہد نے کہا کہ صحافیوں کو غیر ریاستی عناصر، سیاسی جماعتوں اور مذہبی گروہوں کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا ہے، جبکہ میڈیا میں خود سنسرشپ بڑھتی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان پناہ گزینوں سے متعلق رپورٹنگ کرنے پر بھی صحافیوں پر دباؤ ڈالا گیا اور انہیں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دی گئیں۔سلیم شاہد کے مطابق معاشی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک ہے۔انہوں نے بتایا کہ ٹی وی چینلز نے اپنی صوبائی رپورٹنگ ٹیموں کو کم کرکے صرف ایک رپورٹر اور ایک کیمرہ مین تک محدود کر دیا ہے، جس کے باعث متعدد صحافی بے روزگار ہو گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت بے روزگار میڈیا ورکرز کو مناسب ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
سندھ میں سنسرشپ اور صحافتی تنظیموں میں تقسیم
کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر طاہر حسن نے کہا کہ سندھ سمیت ملک بھر میں خود سنسرشپ معمول بن چکی ہے، اگرچہ سندھی زبان کے میڈیا میں کام کرنے والے صحافی نسبتاً زیادہ آزادی کے ساتھ رپورٹنگ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معاشی بحران کے باعث متعدد صحافیوں کو اپنا پیشہ چھوڑنا پڑا ہے، جبکہ سیاسی اختلافات نے صحافتی تنظیموں کو کمزور کر دیا ہے۔مختلف گروہوں کو اکثر مخصوص سیاسی جماعتوں سے منسلک قرار دیا جاتا ہے۔طاہر حسن نے کہا کہ آزادیٔ اظہار کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
خیبر پختونخوا میں صحافیوں کے قتل، دھمکیاں اور بے روزگاری
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کی خیبر پختونخوا شاخ کے نائب صدر ناصر حسین نے کہا کہ صوبے کی صورتحال بلوچستان سے ملتی جلتی ہے، جہاں صحافیوں کو سکیورٹی خطرات، سنسرشپ اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد خیبر پختونخوا میں 30 سے زائد صحافی قتل ہو چکے ہیں، جبکہ پشاور پریس کلب پر بھی دہشت گرد حملہ ہو چکا ہے۔ان کے مطابق 2025ء میں 22 صحافیوں کو دھمکیاں دی گئیں۔
انہوں نے خیبر پختونخوا اسمبلی سے منظور کیے گئے ایک مجوزہ قانون کا بھی ذکر کیا، جس میں اسمبلی اسپیکر کے خلاف بات کرنے پر صحافیوں کے لیے قید اور بھاری جرمانے مقرر کیے گئے تھے۔صحافیوں کے احتجاج کے بعد وہ قانون واپس لے لیا گیا، جبکہ حکومت نے اس قانون کی منظوری کے عمل سے لاتعلقی ظاہر کی۔ناصر حسین نے کہا کہ صوبے کے صحافی 2021ء سے صحافیوں کے تحفظ سے متعلق قانون نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ میڈیا انڈسٹری کو درپیش مالی بحران کے باعث صوبے کے تقریباً 60 فیصد صحافی اپنی ملازمتوں سے محروم ہو چکے ہیں۔
پنجاب میں پیکا مقدمات اور سرکاری اشتہارات پر سوالات
پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل قمر بھٹی نے کہا کہ پیکا (Prevention of Electronic Crimes Act) کے تحت درج مقدمات اکثر صحافیوں کو دھمکانے اور ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔انہوں نے پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (PERA) کے اہلکاروں کی جانب سے عام شہریوں کے ساتھ مبینہ زیادتیوں پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ایسے واقعات کی رپورٹنگ کرنا صحافیوں کی ذمہ داری ہے۔قمر بھٹی نے سوال اٹھایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے میڈیا اداروں کو اربوں روپے کے اشتہارات دیے جاتے ہیں، مگر اس بات کی مناسب جانچ نہیں کی جاتی کہ صحافیوں کو بروقت تنخواہیں مل رہی ہیں یا نہیں۔
آزاد کشمیر میں خوف اور انٹرنیٹ پر پابندیاں
سینئر صحافی عارف وہاب نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں صحافی خوف کے ماحول میں کام کر رہے ہیں، جہاں انہیں ممکنہ گرفتاریوں اور رپورٹنگ پر پابندیوں کے خدشات لاحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ تین ماہ سے زائد عرصے تک انٹرنیٹ کی فراہمی متاثر رہنے کے باعث آزاد کشمیر کے صحافیوں کا کام شدید متاثر ہوا۔انٹرنیٹ بحال ہونے کے باوجود اس کی رفتار سست ہے، جبکہ راولاکوٹ صحافیوں کے لیے ایسا علاقہ بن چکا ہے جہاں ان کی آمدورفت پر پابندیاں ہیں۔
فرحت اللہ بابر کا سیاسی جماعتوں سے مذاکرات اور ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کا مطالبہ
پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر اور انسانی حقوق کے کارکن فرحت اللہ بابر نے مجوزہ اتحاد پر زور دیا کہ وہ سیاسی جماعتوں سے براہِ راست رابطہ کرے اور آزادیٔ اظہار پر پابندیوں کا منظم ریکارڈ واضح مطالبات کے ساتھ پیش کرے۔انہوں نے کہا کہ آزادیٔ اظہار کے تحفظ کی ذمہ داری صرف صحافیوں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔فرحت اللہ بابر نے صحافیوں کے تحفظ سے متعلق کمیشن کے غیر فعال ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کی رکنیت ابھی تک مکمل نہیں کی گئی۔
انہوں نے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے جامع قانون اور نگرانی کے عمل کو ضابطے میں لانے کے لیے مناسب قانونی انتظامات کی کمی کی بھی نشاندہی کی۔انہوں نے اتحاد کو تجویز دی کہ شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ اور نگرانی کے عمل کو منظم کرنے کے لیے واضح قانونی فریم ورک کا مطالبہ کیا جائے۔
اسمبلی پریس گیلری ایسوسی ایشن کا قانون سازی پر اظہارِ تشویش
پنجاب اسمبلی پریس گیلری ایسوسی ایشن کے صدر خواجہ نصیر نے کہا کہ صحافی اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی سے متعلق بار بار سفارشات پیش کر چکے ہیں اور تقریباً 20 احتجاج بھی کر چکے ہیں، لیکن کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پیکا میں ترامیم اور ہتکِ عزت سے متعلق قوانین سمیت مختلف قانونی اقدامات نے صحافیوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔اسی طرح معاشی عدم تحفظ کے باعث متعدد میڈیا ورکرز کئی کئی ماہ تک تنخواہوں سے محروم رہتے ہیں، جبکہ بعض بڑے میڈیا ادارے کم از کم اجرت سے بھی کم تنخواہیں ادا کر رہے ہیں۔
وفاقی حکومت کا مؤقف: سوشل میڈیا کو منظم کرنا ضروری ہے
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ آزادیٔ اظہار معاشرے کے ہر فرد کا بنیادی حق ہے، جبکہ آئین میں بھی بعض شرائط کے ساتھ اس حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔سائبر کرائم قانون میں ترامیم کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روایتی میڈیا کے لیے موجود ضابطوں کا نظام سوشل میڈیا کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اخبارات اور ٹی وی چینلز کے پاس ضابطہ اخلاق اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) جیسے ادارہ جاتی طریقہ کار موجود ہیں، جن کے ذریعے شکایات کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پیمرا کی شکایات کونسلوں میں صحافیوں کی نمائندگی بھی موجود ہے۔عطا اللہ تارڑ کے مطابق سوشل میڈیا پر ایسے انتظامات کی کمی کے باعث آن لائن دھمکیوں، ہراسانی اور بلیک میلنگ کی شکایات سے نمٹنے میں خلا پیدا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسے معاملات سے نمٹنے اور شہریوں کو آن لائن بدسلوکی سے بچانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا کو منظم کرنے کے حوالے سے حکومت کا مؤقف آزادیٔ اظہار کو کمزور کرنے کے لیے نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے تحفظ کا کمیشن قائم کیا جا چکا ہے اور اب کام کر رہا ہے۔ان کا دعویٰ تھا کہ وزارتِ اطلاعات نے کمیشن کی تشکیل جلد مکمل کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے قیام کے وقت میڈیا نمائندوں سے مشاورت کی گئی تھی اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ایک ہی جرم پر صحافیوں کے خلاف متعدد قوانین کے تحت کارروائی نہیں کی جائے گی۔عطا اللہ تارڑ نے میڈیا اداروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے خدشات اور سفارشات تحریری طور پر پیش کریں تاکہ قانون پر عمل درآمد کو بہتر بنایا جا سکے۔انہوں نے حکومت اور میڈیا تنظیموں کے درمیان بہتر روابط اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا تاکہ قوانین کا استعمال من مانی یا انصاف کے اصولوں کے برخلاف نہ ہو۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد اور انتہا پسند عناصر سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں، لہٰذا معاشرے کو محفوظ بنانے کے لیے ضابطے ضروری ہیں۔بین الاقوامی مثالیں دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں بھی ضابطے اور ہتکِ عزت سے متعلق قوانین موجود ہیں۔انہوں نے حکومت اور میڈیا تنظیموں کے درمیان روابط بہتر بنانے، قوانین پر منصفانہ عمل درآمد، آن لائن دھمکیوں سے متعلق قانونی خلا دور کرنے اور سائبر کرائم قوانین پر عمل درآمد بہتر بنانے کے لیے صحافتی تنظیموں سے مشاورت جاری رکھنے کی تجویز دی، تاکہ آزادیٔ اظہار کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
پی ایف یو جے کا مشترکہ احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے سیکرٹری جنرل ارشد انصاری نے کہا کہ موجودہ حالات میں مشترکہ اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے اور صحافتی یونینوں کو آزادیٔ صحافت کے تحفظ کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پریس کلب سماجی سرگرمیوں کے مراکز ہیں، جبکہ صحافیوں کے پیشہ ورانہ اور معاشی حقوق کا دفاع کرنا یونینوں کی ذمہ داری ہے۔ارشد انصاری نے 51 صحافیوں کے قتل کے مقدمات میں ملزمان کی گرفتاری یا سزا نہ ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا انڈسٹری شدید بحران کا شکار ہے۔انہوں نے بتایا کہ پی ایف یو جے نے پیکا قانون کو عدالت میں چیلنج کیا ہے، لیکن مقدمے کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا۔صحافیوں کے خلاف پنجاب کے ہتکِ عزت قانون کے تحت بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں۔انہوں نے پیکا میں 2025ء کے دوران کی گئی ترامیم پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جو سیاسی جماعتیں حزبِ اختلاف میں رہتے ہوئے اس قانون کی مخالفت کرتی رہی ہیں، کیا وہ صحافیوں کی حمایت کریں گی اگر صحافی اس قانون کے خلاف اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کریں؟ارشد انصاری نے خبردار کیا کہ سائبر کرائم نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات میں اضافے اور مناسب حفاظتی اقدامات کی کمی کے باعث اختیارات کے غلط استعمال اور احتساب سے بچنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔انہوں نے مشترکہ احتجاجی تحریک کی کال دیتے ہوئے کہا کہ صحافی اسلام آباد میں احتجاجی کیمپ قائم کریں گے اور معاشرے کے دیگر طبقات کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دیں گے۔
آزادیٔ اظہار کے تحفظ کے لیے مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق
بحث کے اختتام پر سینئر صحافی ناصر زیدی نے کہا کہ شرکاء نے آزادیٔ اظہار کے دفاع اور صحافتی آزادی پر پابندیوں کے خلاف مشترکہ ردعمل مضبوط بنانے کے لیے اتحاد قائم کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔گول میز کانفرنس میں آزادیٔ اظہار کے تحفظ کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔یہ کمیٹی متعلقہ فریقوں سے مشاورت کرے گی، آزادیٔ اظہار پر پابندیوں سے متعلق منظم دستاویزی ریکارڈ تیار کرے گی اور صحافیوں سمیت دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ وسیع مشاورت کے بعد مطالبات کا ایک چارٹر مرتب کرے گی۔شرکاء نے زور دیا کہ آزاد صحافت کے تحفظ اور ملک میں آزادیٔ اظہار کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے وسیع بنیادوں پر قائم اتحاد، مضبوط صحافتی یونینوں کے تعاون کے ساتھ، انتہائی ضروری ہے۔
12